معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ ایک سنگین تنازع کی زد میں آ چکا ہے جہاں اس کے اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹ ’گروک‘ کے ذریعے خواتین کی تصاویر کو نامناسب انداز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ عمل اکثر متاثرہ افراد کی اجازت کے بغیر ہو رہا ہے اور بعض معاملات میں کم عمر افراد کی تصاویر بھی اس کا نشانہ بنیں، جس نے عالمی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مختلف خواتین صارفین نے شکایت کی کہ ان کی عام، روزمرہ تصاویر کو گروک کے ذریعے انتہائی عریاں یا فحش انداز میں پیش کیا گیا۔ صرف چند الفاظ پر مشتمل ہدایات کے ذریعے صارفین تصویر اپ لوڈ کر کے اے آئی سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ لباس تبدیل کرے یا جسمانی ساخت کو جنسی انداز میں نمایاں کرے۔ اس آسانی نے ایک ایسے رجحان کو فروغ دیا جو پہلے محدود اور خفیہ آن لائن حلقوں تک محدود تھا۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نہیں بلکہ شخصی وقار، رازداری اور نفسیاتی سلامتی پر براہِ راست حملہ ہے۔ کئی خواتین نے بتایا کہ جب انہوں نے اس عمل کے خلاف آواز اٹھائی تو اس کے نتیجے میں مزید افراد نے جان بوجھ کر ان کی تصاویر کو نشانہ بنایا، جس سے ہراسانی میں اضافہ ہوا۔

اس صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ فرانس میں حکومتی وزرا نے اسے واضح طور پر غیر قانونی اور صنفی امتیاز پر مبنی مواد قرار دیتے ہوئے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بھارت کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایکس سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ ایسے مواد کو روکنے میں کیوں ناکام رہی۔ اگرچہ امریکہ میں متعلقہ اداروں نے براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن معاملہ وہاں بھی زیرِ غور سمجھا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ’ایکس اے آئی‘ کو پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا تھا کہ اگر واضح حدود اور فلٹرز نافذ نہ کیے گئے تو یہ ٹیکنالوجی صارفین کی غیر رضامندانہ اور بغیر اجازت ڈیپ فیک مواد کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ناقدین کے نزدیک مسئلہ صرف صارفین کے رویے کا نہیں بلکہ پلیٹ فارم کی پالیسیوں اور حفاظتی نظام کی ناکامی کا بھی ہے۔

یہ تنازع ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے، کیا مصنوعی ذہانت کو محض تخلیقی آزادی کے نام پر بغیر اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کے چھوڑ دیا جا سکتا ہے؟ یا اب وقت آ گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی وقار کے تحفظ کو بھی مرکزی حیثیت دی جائے؟

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس مسئلے پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہ صرف آن لائن دنیا کو غیر محفوظ بنا دے گا بلکہ حقیقی زندگی میں بھی سماجی اور نفسیاتی نقصانات کا سبب بنے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اے آئی

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان