پنجاب میں امراضِ قلب کے علاج کے لیے انٹراویسکولر سرجری کی جدید تکنیک متعارف کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پنجاب میں دل کے مریضوں کے علاج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے انٹراویسکولر سرجری کی جدید ترین تکنیک متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت مقامی ڈاکٹروں کو جدید تربیت فراہم کی جائے گی۔
پنجاب میں امراضِ قلب کے علاج کے لیے انٹراویسکولر سرجری کی جدید اور محفوظ ترین تکنیک متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے امریکی ڈاکٹرز صوبے کے ڈاکٹروں کو خصوصی ٹریننگ فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کی 98 تحصیلوں میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ
بریفنگ کے مطابق انٹراویسکولر سرجری روایتی اوپن سرجری کا جدید متبادل ہے، جس میں خون کی نالی میں ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے انجیوپلاسٹی، اسٹینٹ اور ابلیشن جیسے علاج کیے جاتے ہیں۔ اس طریقۂ علاج کو زیادہ محفوظ اور کم تکلیف دہ قرار دیا گیا ہے۔
چلڈرن اسپتال، نشتر ہسپتال اور جناح ہسپتال کے ڈاکٹروں کو اس جدید تکنیک کی تربیت دینے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نواز شریف میڈیکل سٹی میں امراضِ قلب کے جدید طریقۂ علاج متعارف کرانے کے لی عملی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں غیر قانونی پتنگ بازی کی مکمل ممانعت، محکمہ داخلہ کی ہدایات جاری
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اوکلاہوما ہارٹ اسپتال کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ڈاکٹر نعیم طاہر خیلی کی سربراہی میں وفد کی ملاقات کے دوران کیا گیا۔ ملاقات میں رخسانہ فاؤنڈیشن کی ہیلتھ اور تعلیمی خدمات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب میں ڈاکٹروں کی ٹریننگ کے لیے خدمات حاصل کرنے پر اتفاق کیا اور رخسانہ فاؤنڈیشن کی صحت اور تعلیم کے شعبے میں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے انٹراویسکولر سرجری کیلئے جدید طبی آلات کی خریداری کے اقدامات کی بھی ہدایت جاری کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پنجاب امراض قلب مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔