Juraat:
2026-07-24@01:15:56 GMT

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 82ہزار ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 82ہزار ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے

82فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5فیصد کرایہ دار ہیں، گھریلو اخراجات 79ہزار ہوگئے
ملک میں 7فیصد آبادی بیت الخلا (لیٹرین)جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے،ہائوس ہولڈ سروے

حکومت کے ہائوس ہولڈ سروے کے مطابق پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ماہانہ اوسطا آمدنی 82 ہزار روپے ہوگئی۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ حکومت کے ہاوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق گزشتہ 5 سال کے دوران شہریوں کی اوسط آمدنی میں 97 فیصد اضافہ ہوا جب کہ 2019 سے 2025 تک گھریلو اخراجات 113 فیصد بڑھ گئے، ملک میں اوسطا ماہانہ آمدن 82 ہزار اور اخراجات 79 ہزار روپے ہیں۔سروے کے مطابق اخراجات میں سب سے زیادہ فرنشنگ، گھریلو آلات، ہیلتھ، فوڈز، گڈز اینڈ سروسز پر ریکارڈ کیے گئے، بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ذاتی ملکیتی گھروں کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔سروے کے مطابق 2018،19 میں 84 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر تھے جبکہ موجودہ سروے میں 82 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر ہیں، کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کی تعداد 10 فیصد سے بڑھ کر 10.

5 فیصد ہوگئی۔ہائوس ہولڈ اکنامک سروے رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کلین فیول کے استعمال میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، پانچ سال میں کلین فیول کا استعمال 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہوگیا ہے، لائٹنگ اور کوکنگ کیلئے نیچرل گیس، ایل پی جی، بائیو گیس، سولر انرجی کا استعمال بڑھ گیا۔ہینڈ پمپ سے پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 24 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد ہوگئی جبکہ نل سے پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 18 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہو چکی ہے، اسی طرح فلٹر کا پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ریکارڈ کی گئی۔سروے کے مطابق ملک میں 7 فیصد آبادی ابھی تک بیت الخلا (لیٹرین)جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔سروے کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آمدن میں ٹک ٹاک سب سے آگے ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو استعمال کرنے والے 88 فیصد لوگ ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں، یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرنے والے 86 فیصد لوگ ہیں۔یہ سروے ملک کے سماجی و معاشی حالات کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے اہم کردادار اد اکرتا ہے۔ ہاوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس)1963سے قومی اور صوبائی سطح پر سماجی و معاشی اعشاریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔قبل ازیں یہ سروے 2018-19 میں کیا گیا تھا جس میں آمدنی اور کھپت کے رجحانات سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے۔ ایچ آئی ای ایس پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز)کے حصول میں پیش رفت کی نگرانی میں بھی معاون ہے، جہاں پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے رپورٹ کیے جانے والے 62 میں سے 31 اعشاریوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔خانہ ومردم شماری 2023 کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ ہاوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 202425، مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سروے کی فیلڈ سرگرمیاں جون 2025 میں سہ ماہی بنیادوں پر مکمل کی گئیں، جس کے دوران ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر 32 ہزار گھرانوں کا احاطہ کیا گیا،۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے ایک مکمل طور پر مربوط انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی) نظام استعمال کیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: فیصد سے بڑھ کر سروے کے مطابق استعمال کرنے اکنامک سروے والوں کی کیا گیا کی شرح

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری