9 مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس، عادل راجا، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر و دیگر کو عمر قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
معید پیرزادہ ، سید اکبر حسین، شاہین صہبائی شامل، بھاری جرمانے عائد، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں ، ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ جرمانے کی سزا
دوران سماعت پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا ،پراسیکیوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا، اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے محفوظ فیصلہ سنادیا
انسداد دہشت گردی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے کیس میں عادل راجا و دیگر ملزمان کو دو دو بار عمر قید کی سزا سنادی۔9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے کیس کی سماعت انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ہوئی، جس میں اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کچھ دیر قبل ہی ٹرائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے عادل راجا، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو 2، 2بار عمر قید کی سزا سنا دی جب کہ صابر شاکر، معید پیرزادہ کو بھی 2،2 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں سنائیں۔ ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔دوران سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا ، جہاں عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے راجا نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے تھانہ آبپارہ کے مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ تھانہ رمنا کے مقدمے میں شاہین صہبائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی۔سماعت کے دوران عدالت میں ملزمان کی جانب سے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ واضح رہے کہ گلفام گورائیہ ایڈووکیٹ کو عدالت کی جانب سے ملزمان کا وکیل مقرر کیا گیا تھا ۔ انسداددہشت گردی قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: عمر قید کی سزا پراسیکیوشن کی عدالت میں پیش کی جانب سے ملزمان کو ملزمان کی عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔