اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے تیار ہوں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں، تاہم بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے انہیں اس حوالے سے کوئی ہدایت نہیں دی۔
پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا ٹاسک محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے سپرد کیا ہے، مجھے اس حوالے سے کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے مفاد میں تمام فریقین کو مل بیٹھنا چاہیے۔
’حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی مفادات کے مطابق پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ اگر صوبائی معاملات پر بات چیت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔‘
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا ’اگر کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملاقات کروں گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ناگزیر ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے بات چیت کے حالات اور ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا ’ان کا باہر نکلنا بالکل جائز ہے، وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ کراچی جانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ عوام کو عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک کیا جائے۔‘
وزیراعلیٰ نے لاہور کے دورے کے دوران نامناسب زبان استعمال کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’وہ ردعمل کا نتیجہ تھا، تاہم میں نے اس پر معذرت کر لی ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی بات چیت کے لیے نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔