سرکاری ملازمین کی کارکردگی،نظم وضبط ،احتساب کیلئے ترمیمی بل متعلقہ کمیٹی کوارسال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
سرکاری ملازمین کی کارکردگی،نظم وضبط اور احتساب کے سلسلہ میں ترمیمی بل متعلقہ کمیٹی کوارسال کر دیا گیا ، پنجاب حکومت بل میں سرکاری ملازمین کے سروس قوانین کی تشریح و وضاحت جاری کردی۔ ترمیمی بل کے متن میں کہا گیا کہ ریٹائرہونے والے ملازم کے خلاف کارروائی 2سال میں مکمل کرنا ہو گی،2سال میں کارروائی مکمل ناہونے پروجوہات کی بناء پروقتی توسیع ہوسکے گی۔ وقت کا تعین عدالتی کیس کو وقت پر نمٹانے کے لئے ضروری ہے،سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعدکارروائی سے متعلق ابہام دورکیاگیا۔بل میں ریٹائرمنٹ کے بعدمحکمہ جاتی انکوائری کے دائرہ کارکی وضاحت کی گئی،سرکاری ملازمین کے احتساب سے متعلق شقیں واضح کی گئی ہیں۔ بل 2ماہ کیلئے پنجاب اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا گیا ہے ، کمیٹی کی منظوری کے بعد بل پنجاب اسمبلی سے منظورکروایاجائے گا اور اس کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔