امریکی حملے کے بعد وینزویلا: اگلے اقدامات کے امکانات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکی حملوں کے بعد وینزویلا میں آئندہ سیاسی منظرنامے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں امریکی حملے کیے گئے، جن کے بارے میں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انجام پائے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وینزویلا میں موجودہ پیشرفت کے بعد بھی مستقبل کا منظرنامہ غیر واضح ہے۔
مبصرین کے مطابق صدر نکولس مادورو کے زیرِ اثر فوج کسی بھی پیشگی سیاسی یا سفارتی مفاہمت کے بغیر اقتدار چھوڑنے پر آمادہ نہیں نظر آتی۔ اس وقت تک وینزویلا کی فوج نے تازہ صورتحال پر کوئی باقاعدہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو خود کو مغربی حمایت یافتہ ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہیں، مگر مادورو کے سیاسی مخالفین کی بڑی تعداد امریکی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن میں تقسیم نمایاں ہے۔
دوسری جانب، چاویزم تحریک، جس کی قیادت مادورو کے پاس ہے، ملک بھر میں ابھی بھی عوامی حمایت رکھتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سیاسی تصادم شدت اختیار کر گیا تو وینزویلا ایک خانہ جنگی یا تباہ کن مسلح تنازع کی جانب بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔