Jang News:
2026-07-24@04:01:07 GMT

سالِ نو کے پہلے سُپر مون کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

سالِ نو کے پہلے سُپر مون کا آغاز

سالِ نو کے پہلے سُپر مون کا آغاز ہوگیا، آسمان پر چاند غیرمعمولی طور پر بڑا دکھائی دے گا، یہ سپر مون روایتی طور پر وولف مون کہلاتا ہے۔

یہ سپر مون آخری سپر مون ہے، جس کا آغاز اکتوبر 2025ء میں ہوا تھا جبکہ یہ سال 2026ء کا پہلا سپر مون بھی ہے۔

اعلامیے کے مطابق یہ سپر مون سال کے فلکیاتی مظاہر میں ایک ابتدائی نمایاں واقعہ ہے، کیونکہ اسی دوران کوآڈرینٹڈ شہابی بارش اپنی انتہا پر ہوتی ہے، جو اس کی فلکیاتی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

پاکستان میں سپر مون آج شام 5 بجکر51 منٹ پر طلوع ہوا، اس وقت چاند کی روشنی 99 اعشاریہ 8 فیصد ہوگی، جو 3 اور 4 جنوری کی رات کو نمایاں طور پر دیکھا جا سکے گا۔

اس موقع پر زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار 312 کلومیٹر ہوگا جبکہ سپرمون پورے چاند کے مقابلے میں تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا اور 10 فیصد تک زیادہ روشن دکھائی دے گا۔

ماہرین فلکیات کا مزید بتانا ہے کہ سپر مون عموماً تین سے چار مسلسل واقعات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور موجودہ سپر مون کا سلسلہ 3 جنوری کے سپر مون کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔

اگلا سپر مون کا سلسلہ نومبر 2026ء میں شروع ہوگا، جو سال 2026ء کا دوسرا سپر مون کہلائے گا اور 2026ء کے اختتام تک اس کے بعد کوئی اور سپر مون نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پر مون کا

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل