میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا وعدہ ہے ترقی کا سفر جاری رہے گا، مجھے وزیر اعظم پیسے نہیں دے رہے ہیں۔

رنچھوڑ لائن میں حسن علی ہوتی مارکیٹ کے افتتاح کے موقع پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سب کو 100 سال پرانی تاریخی حسن علی ہوتی مارکیٹ میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمی کراچی نے اس تاریخی مارکیٹ کو بہتر کرنے کا بیڑا اٹھایا، ہم نے تجاوزات ہٹائیں اور اس بلڈنگ کو دوبارہ بحال کیا۔

میئر کراچی نے مزید کہا کہ آج آپ فخریہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ہے ہمارا کراچی، ہوتی خاندان یہاں موجود ہے، انہوں نے بھی شکریہ ادا کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈینسو ہال اور مچھی میانی مارکیٹ کو بحال کیا، ایمپریس مارکیٹ کو مکمل کرکے 31 جنوری کو بحال کریں گے، لی مارکیٹ کی بحالی کے کام کا آغاز کردیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا کہ یہی وہ اختیار ہیں جو استعمال کرکے لوگوں کو سہولت دے رہے ہیں، یہ پیپلز پارٹی کا وعدہ ہے کہ ترقی کا سفر جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ دیگر مارکیٹس کو بھی بحال کر رہے ہیں، کراچی میں 46 ارب روپے خرچ کرنے جا رہے ہیں، مختلف شاہراہیں بنائیں گے، دراصل ہمیں لوگوں سے پیار ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ اس پیار، محبت اور ترقی کا سلسلہ اسی طریقے سے جاری رہے گا، میئر کے پاس اختیار کی کمی نہیں ہوتی، اصل بات وسائل کی ہے، مجھے وزیر اعظم پیسے نہیں دے رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے وسائل میں اضافہ کیا جس وجہ سے یہ کام کر رہے ہیں، نعمت اللّٰہ خان کے دور میں سڑکیں کمرشل کر کے اضافہ کیا گیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سمندر میں ان ٹریٹیڈ پانی جاتا تھا، ابھی پلانٹ چل رہے ہیں اور دیگر بھی بن رہے ہیں، شاہراہ بھٹو پر تیزی سے کام چل رہا ہے، بسیں آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس عمارت کے حوالے سے دو پلان ہیں، ایک بڑے پیکیج پر کام کررہے ہیں، کیا پہلے نیا سال منا سکتے تھے؟ سی ویو بند ہوتا تھا، اس بار لاکھوں کی تعداد میں لوگ باہر نکلے۔

میئر کراچی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو کراچی آمد پر مکمل عزت دیں گے اور خوش آمدید کہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: میئر کراچی دے رہے ہیں نے کہا کہ انہوں نے کراچی نے وہاب نے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم