مجھے وزیراعظم پیسے نہیں دے رہے ہیں، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا وعدہ ہے ترقی کا سفر جاری رہے گا، مجھے وزیر اعظم پیسے نہیں دے رہے ہیں۔
رنچھوڑ لائن میں حسن علی ہوتی مارکیٹ کے افتتاح کے موقع پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سب کو 100 سال پرانی تاریخی حسن علی ہوتی مارکیٹ میں خوش آمدید کہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمی کراچی نے اس تاریخی مارکیٹ کو بہتر کرنے کا بیڑا اٹھایا، ہم نے تجاوزات ہٹائیں اور اس بلڈنگ کو دوبارہ بحال کیا۔
میئر کراچی نے مزید کہا کہ آج آپ فخریہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ہے ہمارا کراچی، ہوتی خاندان یہاں موجود ہے، انہوں نے بھی شکریہ ادا کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈینسو ہال اور مچھی میانی مارکیٹ کو بحال کیا، ایمپریس مارکیٹ کو مکمل کرکے 31 جنوری کو بحال کریں گے، لی مارکیٹ کی بحالی کے کام کا آغاز کردیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا کہ یہی وہ اختیار ہیں جو استعمال کرکے لوگوں کو سہولت دے رہے ہیں، یہ پیپلز پارٹی کا وعدہ ہے کہ ترقی کا سفر جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ دیگر مارکیٹس کو بھی بحال کر رہے ہیں، کراچی میں 46 ارب روپے خرچ کرنے جا رہے ہیں، مختلف شاہراہیں بنائیں گے، دراصل ہمیں لوگوں سے پیار ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ اس پیار، محبت اور ترقی کا سلسلہ اسی طریقے سے جاری رہے گا، میئر کے پاس اختیار کی کمی نہیں ہوتی، اصل بات وسائل کی ہے، مجھے وزیر اعظم پیسے نہیں دے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے وسائل میں اضافہ کیا جس وجہ سے یہ کام کر رہے ہیں، نعمت اللّٰہ خان کے دور میں سڑکیں کمرشل کر کے اضافہ کیا گیا۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سمندر میں ان ٹریٹیڈ پانی جاتا تھا، ابھی پلانٹ چل رہے ہیں اور دیگر بھی بن رہے ہیں، شاہراہ بھٹو پر تیزی سے کام چل رہا ہے، بسیں آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس عمارت کے حوالے سے دو پلان ہیں، ایک بڑے پیکیج پر کام کررہے ہیں، کیا پہلے نیا سال منا سکتے تھے؟ سی ویو بند ہوتا تھا، اس بار لاکھوں کی تعداد میں لوگ باہر نکلے۔
میئر کراچی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو کراچی آمد پر مکمل عزت دیں گے اور خوش آمدید کہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میئر کراچی دے رہے ہیں نے کہا کہ انہوں نے کراچی نے وہاب نے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔