سہیل آفر یدی: ظلم اور فسطائیت میں قومیں نہیں بنتیں، سب کے لیے عدل و انصاف ضروری ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفر یدی نے کہا ہے کہ ظلم اور فسطائیت کے نظام میں صرف سڑکیں بنتی ہیں، قومیں نہیں۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون اور عدل و انصاف کا نظام ہو۔
وزیراعلیٰ نے یہ بات پشاور میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی دو روزہ صحت آگاہی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں 100 فیصد آبادی کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
سہیل آفر یدی نے کہا کہ پنجاب میں عمران خان کے شروع کردہ مفت علاج کے پروگرام کو ختم کر دیا گیا، لیکن خیبرپختونخوا میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نیوٹریشن کے شعبے کے لیے وسائل میں اضافہ کیا جائے گا۔ صحت اور تعلیم ایسے شعبے ہیں جو براہِ راست عوامی فلاح سے جڑے ہیں، اور ان پر ترجیحی بنیادوں پر سرمایہ کاری جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہوگی اور ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری سے انحراف بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے اور صوبائی حکومت گورننس اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
سہیل آفر یدی نے کہا، “ہم نے امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے۔ عمران خان کے ساتھ شروع کی گئی یہ جدوجہد آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ ہم سب مل کر پاکستان کو اقبال اور قائداعظم کے خوابوں کے مطابق ایک حقیقی مضبوط ریاست بنائیں گے۔”
انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی جرات اور استقامت کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ اپنی جنگ لڑ چکی ہیں، اور اب ہم سب اپنے حصے کی ذمہ داری نبھا کر اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سہیل ا فر یدی نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائر کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائر کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے،
آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریبCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم