ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی کہاں ہے؟ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی نے ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی کے حوالے سے جاری تنازع پر مختصر مگر واضح جواب دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایشیا کپ ٹرافی تنازع، بھارت ماتھا ٹیکنے پر مجبور ہوگیا
کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی فی الحال کہاں رکھی گئی ہے، تو محسن نقوی نے ہنستے ہوئے کہا، ’جہاں بھی ہے، محفوظ ہے‘۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اجلاس میں ایشیا کپ کی ٹرافی پر کوئی بات نہیں ہوئی، اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے بھی اس سلسلے میں کوئی سوال یا مؤقف سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل نومبر 2025 میں دبئی میں ہونے والے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بورڈ اجلاس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی کے تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایشیا کپ ٹرافی تنازع شدت اختیار کر گیا، محسن نقوی کی ویڈیو پر بھارت برہم
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے باضابطہ طور پر ایشیا کپ کی گمشدہ ٹرافی کا معاملہ اجلاس میں اٹھایا، جس پر آئی سی سی نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مسئلہ باہمی طور پر حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایشیا کپ پاک بھارت تنازع ٹرافی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ پاک بھارت تنازع ٹرافی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وی نیوز ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی محسن نقوی
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔