امریکا: دہشت گردی کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی حکام کی جانب سے مقامی ریاست میں دہشت گردی کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے سال نوکے موقع پر ریاست نارتھ کیرولائنا میں دہشت گردی کی کوشش ناکام بنادی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں مقامی شخص کو گرفتار کیا ہے۔ ملکی میڈیا نے بتا یا ہے کہ ملزم کی رہائش گاہ پر ایف بی آئی نے چھاپا مار، جسے گرفتار کر کے چاقو اور دیگر اشیا قبضے میں لے لیں۔ دیگر تفصیلات کے مطابق خفیہ ادارے نے عین اس وقت چھاپا مارا جب دہشت گرد گروسری اسٹور میں چاقو کے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ بعدازاں اعلیٰ حکام نے ملزم کے خلاف تحقیقات کاآغاز کردیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔