کراچی میں 4 لاشیں ملنے کا واقعہ، مقتولہ کے بھائی نے تفصیل بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ بہن کو ڈھائی سال قبل شوہر نے طلاق دے دی تھی، جس کے بعد وہ اپنے بچوں کی کفالت کر رہی تھی، میری بھانجی اور دو بھانجے پڑھتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں مائی کلاچی روڈ کے مین ہول سے 4 لاشیں ملنے کے واقعے میں پیشرفت سامنے آگئی، مقتولہ انیلہ کے لواحقین ڈاکس پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہماری کسی سے دشمنی نہیں، بہن سے ایک ہفتہ قبل آخری بار فون پر بات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار بہن کے گھر گیا تو تالا لگا پایا، 2 روز قبل بھی گیا تو تالا لگا ہوا تھا، 30 دسمبر سے بہن کا موبائل بند تھا۔ مصطفیٰ نے مزید کہا کہ بہن کو ڈھائی سال قبل شوہر نے طلاق دے دی تھی، جس کے بعد وہ اپنے بچوں کی کفالت کر رہی تھی، میری بھانجی اور دو بھانجے پڑھتے تھے، مقتولہ کے بھائی نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے سزا دی جائے۔
واضح رہے کہ جمعہ کے روز مین ہول سے 4 افراد کی لاشیں ملیں، جن میں ایک مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل تھے۔ پولیس کے مطابق ریسکیو حکام کو علاقہ مکینوں کی طرف سے ایک لاش کے مین ہول میں ہونے کی اطلاع ملی تھی، جسے نکالا گیا اور پتھر ہٹائے گئے تو مزید 3 لاشیں ملیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے لاشیں ملنے کا نوٹس لیتے فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقتولہ کے بھائی
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔