ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی
ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ظلم اور فسطائیت کے نظام میں صرف سڑکیں بنتی ہیں، قومیں نہیں بنتیں، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون اور عدل و انصاف کا نظام ہو۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے دو روزہ صحت آگہی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں 100 فیصد آبادی کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عمران خان کے شروع کردہ مفت علاج کے پروگرام کو ختم کر دیا گیا، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نیوٹریشن کے شعبے کے لیے وسائل میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، صحت اور تعلیم براہ راست عوامی فلاح سے جڑے شعبے ہیں، ان پر ترجیحی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی، ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلانا ضروری ہے، ذمہ داری سے انحراف بھی کرپشن کے ذمرے میں آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت گورننس اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنا رہی ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ظلم اور فسطائیت کے نظام میں صرف سڑکیں بنتی ہیں، قومیں نہیں بنتیں، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون اور عدل و انصاف کا نظام ہو۔انہوں نے کہا کہ امیر و غریب کے لیے الگ الگ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے، عمران خان کے ساتھ شروع کی گئی جدوجہد آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے، ہم سب مل کر پاکستان کو اقبال اور قائد اعظم کے خوابوں کے مطابق حقیقی معنوں میں مضبوط ریاست بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جس جرات اور استقامت سے مقابلہ کر رہی ہیں وہ قابل تحسین ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ہیں، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: حصے کی جنگ لڑ سہیل ا فریدی نے کہا کہ بنتی ہیں کے نظام کے لیے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان