عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی
ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ظلم اور فسطائیت کے نظام میں صرف سڑکیں بنتی ہیں، قومیں نہیں بنتیں، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون اور عدل و انصاف کا نظام ہو۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے دو روزہ صحت آگہی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں 100 فیصد آبادی کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عمران خان کے شروع کردہ مفت علاج کے پروگرام کو ختم کر دیا گیا، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نیوٹریشن کے شعبے کے لیے وسائل میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، صحت اور تعلیم براہ راست عوامی فلاح سے جڑے شعبے ہیں، ان پر ترجیحی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی، ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلانا ضروری ہے، ذمہ داری سے انحراف بھی کرپشن کے ذمرے میں آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت گورننس اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنا رہی ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ظلم اور فسطائیت کے نظام میں صرف سڑکیں بنتی ہیں، قومیں نہیں بنتیں، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون اور عدل و انصاف کا نظام ہو۔انہوں نے کہا کہ امیر و غریب کے لیے الگ الگ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے، عمران خان کے ساتھ شروع کی گئی جدوجہد آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے، ہم سب مل کر پاکستان کو اقبال اور قائد اعظم کے خوابوں کے مطابق حقیقی معنوں میں مضبوط ریاست بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جس جرات اور استقامت سے مقابلہ کر رہی ہیں وہ قابل تحسین ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ہیں، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: حصے کی جنگ لڑ سہیل ا فریدی نے کہا کہ بنتی ہیں کے نظام کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔