Express News:
2026-06-03@02:11:15 GMT

معاشی شرح نمو کاغذی، حقیقی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو سکا

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

اسلام آباد:

اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 3.7 فیصد معاشی شرحِ نمو کو شماریاتی ہیر پھیرکا نتیجہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمو صرف کاغذوں میں موجود ہے، زمینی سطح پر حقیقی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوا۔

ای پی بی ڈی کے مطابق مختلف اشاریے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پہلی سہ ماہی کی نمو حقیقی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے بجائے درآمدی بنیادوں پر اسمبلنگ آپریشنز اور اعدادوشمارکے طریقہ حساب کی وجہ سے ظاہرکی گئی۔

تھنک ٹینک نے زور دیا کہ کاروبار کیلیے سازگار پالیسیاں اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کے بغیر پائیدارمعاشی ترقی ممکن نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ غذائی برآمدات میں 25.

8 فیصد کمی آئی، جبکہ غذائی درآمدات 18.8 فیصد بڑھ گئیں، اس کے باوجود زراعت اور فوڈ مینوفیکچرنگ میں مثبت نمو دکھائی گئی، جو اعدادوشمار اور زمینی حقائق کے درمیان واضح تضاد ہے۔

ای پی بی ڈی نے صنعتی شعبے کی 9.4 فیصد نمو کو ڈیفلیٹر میں ہیر پھیرکا نتیجہ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے میں 25.46 فیصد نمو اصل پیداوار بڑھنے کے بجائے سبسڈیز میں اضافے کی وجہ سے ظاہر کی گئی۔

مزید پڑھیں

ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستانی معیشت سے متعلق رپورٹ جاری، شرح نمو میں اضافے کی پیشگوئی

تھنک ٹینک کے مطابق تعمیرات کے شعبے میں 21 فیصد نمو دکھائی گئی، مگر یہ اضافہ مقامی پیداوار کے بجائے درآمدی مشینری اور گاڑیوں پر انحصار سے آیا، بسوں اور ٹرکوں کی درآمدات میں 1,180 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی، کاٹن جننگ میں 12.1 فیصد کمی اورکپاس پر مبنی برآمدات میں تقریباً 10 فیصد کمی کے باوجود ٹیکسٹائل برآمدات میں 7.3 فیصد اضافہ دکھایا گیا، جودرآمدی مصنوعی فائبرز کے استعمال کا نتیجہ ہے۔

ای پی بی ڈی کے مطابق مجموعی قدرِ افزائش کے حساب میں بھی مسئلہ ہے، کیونکہ جب درمیانی لاگت پیداواری بہتری کے بغیرکم ہو تو جی وی اے خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف اوروزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 3.7 فیصد شرحِ نمو کو معیشت کے استحکام سے ترقی کی جانب بڑھنے کی علامت قراردیا ہے، تاہم ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود، زیادہ ٹیکس، مہنگی توانائی اور غیر مستقل پالیسیوں کے باعث پاکستان کے صنعتی اور برآمدی شعبے شدید دباؤکا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نصف میں درآمدات 11 فیصد بڑھیں، جبکہ برآمدات میں تقریباً 9 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے برا مدات میں پی بی ڈی کے مطابق فیصد کمی

پڑھیں:

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔

اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔

مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔

مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔

مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے