Express News:
2026-07-24@07:57:07 GMT

معاشی شرح نمو کاغذی، حقیقی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو سکا

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

اسلام آباد:

اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 3.7 فیصد معاشی شرحِ نمو کو شماریاتی ہیر پھیرکا نتیجہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمو صرف کاغذوں میں موجود ہے، زمینی سطح پر حقیقی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوا۔

ای پی بی ڈی کے مطابق مختلف اشاریے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پہلی سہ ماہی کی نمو حقیقی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے بجائے درآمدی بنیادوں پر اسمبلنگ آپریشنز اور اعدادوشمارکے طریقہ حساب کی وجہ سے ظاہرکی گئی۔

تھنک ٹینک نے زور دیا کہ کاروبار کیلیے سازگار پالیسیاں اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کے بغیر پائیدارمعاشی ترقی ممکن نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ غذائی برآمدات میں 25.

8 فیصد کمی آئی، جبکہ غذائی درآمدات 18.8 فیصد بڑھ گئیں، اس کے باوجود زراعت اور فوڈ مینوفیکچرنگ میں مثبت نمو دکھائی گئی، جو اعدادوشمار اور زمینی حقائق کے درمیان واضح تضاد ہے۔

ای پی بی ڈی نے صنعتی شعبے کی 9.4 فیصد نمو کو ڈیفلیٹر میں ہیر پھیرکا نتیجہ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے میں 25.46 فیصد نمو اصل پیداوار بڑھنے کے بجائے سبسڈیز میں اضافے کی وجہ سے ظاہر کی گئی۔

مزید پڑھیں

ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستانی معیشت سے متعلق رپورٹ جاری، شرح نمو میں اضافے کی پیشگوئی

تھنک ٹینک کے مطابق تعمیرات کے شعبے میں 21 فیصد نمو دکھائی گئی، مگر یہ اضافہ مقامی پیداوار کے بجائے درآمدی مشینری اور گاڑیوں پر انحصار سے آیا، بسوں اور ٹرکوں کی درآمدات میں 1,180 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی، کاٹن جننگ میں 12.1 فیصد کمی اورکپاس پر مبنی برآمدات میں تقریباً 10 فیصد کمی کے باوجود ٹیکسٹائل برآمدات میں 7.3 فیصد اضافہ دکھایا گیا، جودرآمدی مصنوعی فائبرز کے استعمال کا نتیجہ ہے۔

ای پی بی ڈی کے مطابق مجموعی قدرِ افزائش کے حساب میں بھی مسئلہ ہے، کیونکہ جب درمیانی لاگت پیداواری بہتری کے بغیرکم ہو تو جی وی اے خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف اوروزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 3.7 فیصد شرحِ نمو کو معیشت کے استحکام سے ترقی کی جانب بڑھنے کی علامت قراردیا ہے، تاہم ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود، زیادہ ٹیکس، مہنگی توانائی اور غیر مستقل پالیسیوں کے باعث پاکستان کے صنعتی اور برآمدی شعبے شدید دباؤکا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نصف میں درآمدات 11 فیصد بڑھیں، جبکہ برآمدات میں تقریباً 9 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے برا مدات میں پی بی ڈی کے مطابق فیصد کمی

پڑھیں:

سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق