کراچی، مین ہول سے ملنے والے 4 مقتولین کا قاتل گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کراچی مائی کولاچی کے علاقے میں مین ہول سے ملنے والے 4 مقتولین کے قاتل مسرور حسین کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
کراچی پولیس نے مائی کولاچی سے ملنے والی خاتون اور اس کے 3 بچوں کے قاتل کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم مسرور حسین نے ہی خاتون انیلا اور تینوں بچوں کو قتل کیا ہے۔
مائی کلاچی روڈ کے مین ہول سے 4 لاشیں ملنے کے واقعے میں پیشرفت ہوگئی، مقتولہ انیلہ کے لواحقین ڈاکس پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔
مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے اس قبل پولیس کو بتایا تھا کہ بہن سے ہفتہ قبل آخری بار فون پر بات ہوئی تھی۔
مقتولہ کے بھائی نے مزید تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ 30 دسمبر سے بہن کا موبائل نمبر بند تھا، پھر 2 روز قبل بہن کے گھر گیا تو تالا لگا ہوا تھا۔
مصطفیٰ نے بتایا ہے کہ ڈھائی سال قبل بہن کو شوہر نے طلاق دے دی تھی۔ جس کے بعد مقتولہ انیلا بچوں کی کفالت کررہی تھی۔ بھانجی اور دو بھانجے پڑھتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) لاہور پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک 4 ہزار سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق اقبال ٹائون ڈویژن میں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ 2132 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ صدر ڈویژن میں 1555 اور سٹی ڈویژن میں 1040 افراد کو حراست میں لیا گیا، شہر کے مختلف تھانوں میں 651 مقدمات کا اندراج بھی یقینی بنایا گیا ہے۔سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کرایہ داری رجسٹریشن انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد پناہ لے سکتے ہیں اس لیے قانون کی خلاف ورزی کرنےپر بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور غیر قانونی یا مشکوک افراد کو کرائے پر جگہ فراہم کرنے والے مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔(جاری ہے)
سی سی پی او لاہور نے مکان مالکان، کرایہ داروں اور پراپرٹی ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر کرایہ داری ایکٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور تمام ضروری کوائف متعلقہ پولیس ریکارڈ میں درج کروائیں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔