لاہور، جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں 'نظام امامت' کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
علامہ سید جواد نقوی نے خطاب میں کہا جامعہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ قلعۂ وحدتِ امت ہے، جس کی جڑیں بیداری میں اور شاخیں فکر، تعلیم اور تربیت میں پیوست ہیں۔ نظامِ خدا کا حقیقی عنوان نظامِ ولایت اور نظامِ امامت ہے، اور انسانی سعادت اسی نظام کے سائے میں ممکن ہے، جہاں امام علیؑ قطبِ نظامِ امامت ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
یومِ ولادت امام علیؑ: جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں
اسلام ٹائمز۔ جامعہ عروۃُ الوثقیٰ میں یومِ ولادت حضرت امام علیؑ اور جامعہ کے سولہویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک عظیم الشان کانفرنس بعنوان "امامتِ عامہ و امامتِ خاصہ" منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ملک بھر سے تمام مکاتبِ فکر کے علما، طلبہ، دانشور اور قصیدہ خواں حضرات نے بھرپور شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفٰی کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پیر غلام رسول اویسی، علامہ صداقت فریدی، علی دیپ رضوی، اور ایرانی قونصلیٹ کے نمائندے علی رضا مسعودی شامل تھے۔فوٹو گرافر کا نام : تصور حسین شہزاد.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ولادت امام علی
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔