وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ نے میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو بھی خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کی حکومتوں کو مبہم لیکن سخت وارننگز جاری کی ہیں۔ واشنگٹن کی اس فوجی کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید پیدا کی ہے، اور تینوں ممالک نے اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کے عوام کو آزادی دی، نئی حکومت آنے تک ملک ہم چلائیں گے، معزول صدر پر مقدمہ ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
روسی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے مادورو کو ’نارکو-ٹیریسٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو کو خاص طور پر نگرانی میں رکھنا پڑے گا کیونکہ وہاں کوکین کی فیکٹریاں موجود ہیں۔ ٹرمپ نے کیوبا کے بارے میں بھی اشارہ دیا کہ واشنگٹن وینزویلا کی طرح، کامیاب نہ ہونے والے ملک کے عوام کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
After bombing Venezuela and abducting President Nicolás Maduro, Donald Trump said the US government is "going to run the country" until there is a "transition" to pro-US leadership.
He boasted that "very large" US corporations will exploit its oil.
This is blatant colonialism. pic.twitter.com/Cy44HmRdpG
— Ben Norton (@BenjaminNorton) January 3, 2026
میکسیکو میں منشیات کارٹلز کا مسئلہ
ٹرمپ نے میکسیکو کے صدر کلاؤڈیا شینباؤم پاردو پر الزام عائد کیا کہ وہ منشیات کارٹلز کے دباؤ کے تحت خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو میکسیکو میں کارٹلز کے خلاف کچھ کرنا ہوگا کیونکہ یہ ملک کو خود کارٹلز کنٹرول کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل
واشنگٹن کی کارروائی پر عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ میکسیکو نے اس مداخلت کو علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، کیوبا نے حملے کو ’بزدلانہ اور مجرمانہ‘ کہا ہے جبکہ کولمبیا نے ’یکطرفہ فوجی کارروائی‘ کی شدید مذمت کی۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟
تینوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ لاطینی امریکا اور کیریبین کو امن کا خطہ برقرار رکھنا چاہیے، اور امریکی کارروائی کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز