وسیم اکرم نے اپنے حالیہ بیان پر پاکستانیوں سے معذرت کر لی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
لاہور: (ویب ڈیسک) سابق کپتان وسیم اکرم کو سال نو پر پاکستانیوں کو دیئے گئے مشورے ’’ڈنگروں کی طرح کھانا چھوڑ دیں‘‘ پر شدید تنقید کے بعد معذرت کرنا پڑ گئی۔
یاد رہے کہ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد وسیم اکرم پر پاکستانیوں کو ’’ڈنگر‘‘ کہنے پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔
حالیہ تنقید کے بعد وسیم اکرم کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے اپنے سابقہ بیان پر اُن لوگوں سے معذرت کی ہے جنہیں اُن کے الفاظ برے لگے، ساتھ ہی وسیم اکرم کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ ہماری باتیں پکڑ لیتے ہیں، خامیاں نکالنا جانتے ہیں لیکن جو اصل پیغام ہے اس پر دھیان نہیں دیتے۔
– Koray log, I want answers!!!#StayHealthy #ExerciseDaily pic.
— Wasim Akram (@wasimakramlive) January 3, 2026
سابق کپتان اپنے سابقہ بیان کا الگ ورژن پیش کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہے اور یہ بھی کہا کہ سچی بات ہمیشہ کڑوی لگتی ہے۔ انھوں نے دعا کی کہ اللہ آپ کو ہدایت دے۔
یاد رہے وسیم اکرم نے پاکستانیوں کو بے حساب اور بے وجہ کھانے کے نقصانات سے بھی آگاہ کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وسیم اکرم
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔