سنجے دت کی شراب نوشی کی عادت پر وریندر چاولہ کا چونکا دینے والا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ممبئی (شوبز ڈیسک)بالی ووڈ کے سینئر اداکار سنجے دت ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، جب معروف سینئر پاپارازی وریندر چاولہ نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اداکار سے جڑی دلچسپ باتیں شیئر کیں۔
سِدھارتھ کنن کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں وریندر چاولہ نے فلم دھُرندھر کے اداکار سنجے دت کی سیٹ پر موجودگی اور ان کی عادات کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ سنجے دت کو لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر شراب پینے کا خاص شوق تھا۔
وریندر چاولہ کے مطابق سنجے دت اکثر فوٹوگرافروں سے پوچھتے تھے:
“ادھر آؤ، کیا تم شراب پیتے ہو؟”
اگر کوئی کام کا بہانہ بنا کر انکار کرتا تو سنجے دت مسکراتے ہوئے کہتے،
“مجھے لگتا ہے تم پیتے ہو۔”
پھر دیگر لوگ بھی ان کا ساتھ دیتے اور یوں کئی بار غیر شراب نوش افراد کو بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر پینا پڑتا تھا۔
چاولہ نے مزید کہا،
“ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ اتنے بڑے اسٹار تھے کہ نہ پینے والے بھی ان کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔”
اسی گفتگو میں وریندر چاولہ نے سنجے دت کو اپنی زندگی کا ’مسیحا‘ قرار دیتے ہوئے ایک واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار غلطی سے ان کی گاڑی سنجے دت کے وینٹی وین سے ٹکرا گئی، جس پر اداکار کی ٹیم نے انہیں گھیر لیا تھا۔
چاولہ کے مطابق،
“مجھے یقین تھا کہ اب میری خوب پٹائی ہوگی، اتنے میں سنجے دت نیچے آئے اور پوچھا کیا ہوا؟ جب میں نے بتایا کہ گاڑی وین سے ٹکرا گئی ہے تو انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا، ‘اسے جانے دو۔’ اس لمحے وہ مجھے اپنا مسیحا لگے۔ وہ ہمیشہ سے بہت ٹھنڈے مزاج کے انسان ہیں۔”
واضح رہے کہ سنجے دت کو آخری بار ادیتیہ دھَر کی فلم دھُرندھر میں دیکھا گیا تھا، جس میں ان کے ساتھ رنویر سنگھ، اکشے کھنہ اور ارجن رامپال بھی اہم کرداروں میں نظر آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وریندر چاولہ چاولہ نے کے ساتھ
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔