سنجے دت نے اپنے ہاتھ پر اقرا کا نام ٹیٹو کیوں بنوایا؛ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
نئے سال کی آمد کا اداکار سنجے دت نے ہاتھوں پر دو نئے ٹیٹوز بنوا کر استقبال کیا اور اس کی ایک خاص وجہ بھی ہے۔
بالی ووڈ اسٹار سنجے دت اپنی اداکاری کے ساتھ ساتھ اپنے اسٹائل کے لیے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ پہلے اداکار ہیں نے جنھوں نے جاندار باڈی بنائی ورنہ اس سے قبل ہیرو کا جم جانا عجیب سمجھا جاتا تھا۔
اس طرح سنجے دت کے اس باڈی بلڈنگ اسٹائل نے بالی ووڈ کے نرم و نازک ہیروز کو مضبوط جسم کا مالک بننے کی جانب راغب کیا اور آج یہ ہر ایک ہیرو کے لیے لازمی ہوگیا ہے ورنہ اس سے قبل تصور بھی محال تھا۔
یہی نہیں، جب سنجے دت نے لمبے بال رکھے تو فلم ڈائریکٹرز کو یہ روپ پسند نہیں آیا کہ اس سے ہیرو ازم کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ولن کے تصور کو تقویت ملتی ہے لیکن عوام کو سنجے کا یہ روپ اتنا بھایا کہ نوجوانوں کا پسندیدہ ہیر اسٹائل بن گیا تھا۔
اسی طرح رواں برس کا آغاز بھی سنجے دت نے دھماکے دار کرکے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے انھوں نے ہاتھوں پر دو ٹیٹوز بنوائے ہیں جو ناموں پر مشتمل ہیں۔ ایک پر اقرا لکھا ہے اور دوسرے پر شہران کندا ہوا ہے۔
یہ دونوں نام ان کے جڑواں بچوں کے ہیں جو ان کی تیسری اہلیہ مانیتا (دلنواز شیخ) سے ہیں۔ سنجے کی برین کینسر انتقال کرجانے والی پہلی اہلیہ سے بھی ایک بیٹی ہے جو اس وقت ننھیال کے ساتھ امریکا میں ہے۔
سنجے دت اپنی مسلمان والدہ نرگس سے بہت پیار کرتے تھے اور ان کے انتقال کرجانے کے بعد بھی اپنی ماں کے دیئے ہوئے تعویز گلے میں پہنا کرتا تھے اور اسی لیے انھوں نے اپنی بیٹی کا نام اقرا رکھا ہے۔
سنجے دت کی تیسری اور موجودہ اہلیہ مانیتا بھی ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا پیدائشی نام دلنواز شیخ تھا تاہم وہ فلمی نام مانیتا سے مشہور ہوئیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔