دنیا بھر کی مذمت، وینزویلا پر امریکی حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی برادری نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ مختلف ممالک، عالمی اداروں اور حکمرانوں نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی امن کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے شدید مزمت کی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ نے بھی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
چین و روس نے فوجی آپریشن کی کھلی مذمت کیچین نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت قرار دیا ہے، اور واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور ملکی خودمختاری کا احترام کرے۔
روس نے بھی امریکی حملے کو نا قابل قبول اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر مسترد کیا، اور مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
لاطینی امریکا کے ممالک کا ردعملبرازیل کے صدر لوئز اِناسیو لُولا دا سلوا نے کہا کہ امریکہ کی کارروائی نے ’غیر قابل قبول حد‘ پار کر دی ہے اور یہ لاتینی امریکہ اور کیریبین میں علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
میکسیکو نے بھی امریکی فوجی مداخلت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
کولمبیا کے صدر گسٹاؤ پیٹرو نے پوچھا ہے کہ ایسی کارروائی سے لاطینی امریکا کی خودمختاری متاثر ہو گی اور یہ ایک انسانی بحران پیدا کر سکتی ہے۔
کیوبا نے اس حملے کو ’ریاستی دہشتگردی‘ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی ردِ عمل کا مطالبہ کیا ہے۔
چلی کی حکومت نے بھی فوجی کارروائی کی تشویش اور مزمت کا اظہار کیا اور امن اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کا ردعملفرانس نے کہا ہے کہ امریکی آپریشن بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور کوئی بھی پائیدار حل بیرون مداخلت سے نہیں آ سکتا۔
یورپی یونین نے بھی واقعات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے احترام پر زور دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے کہا ہے کہ یہ کارروائی خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے اور اس کا تعلق علاقائی امن و استحکام سے ہے۔ ایران نے بھی امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بین الاقوامی تبصرے اور خدشاتعالمی رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا اور مذاکرات، ملٹی لیٹرلزم اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہی سیاسی بحرانوں کا حل ممکن ہے۔
اسی تنازع پر امریکی داخلی اور خارجی سطح دونوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری نے زور دیا ہے کہ بحران کا حل امن، قانون اور خودمختاری کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی قانون کی خودمختاری خلاف ورزی نے بھی دیا ہے ہے اور کیا ہے
پڑھیں:
محسن نقوی کی مستونگ کے قریب سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
سٹی 42 : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری پر فائرنگ کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیشن جج عبدالحکیم اور گن مین کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر اظہار افسوس کیا۔ محسن نقوی نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مرحومین کی بلندی درجات کیلئے دعا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے زخمی جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری اور دیگر افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محسن نقوی نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو پست نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔