‘ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا محفوظ ہوا نہ مضبوط’، کاملا ہیرس کی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کی سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹ رہنما کاملا ہیرس نے وینزویلا پر کیے گئے امریکی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
کاملا ہیرس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات نے نہ امریکا کو محفوظ بنایا، نہ مضبوط کیا اور نہ ہی عوام کے لیے کوئی ریلیف فراہم کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ مادورو ایک غیر قانونی، ظالم اور آمر حکمران ہیں، تاہم اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ وینزویلا پر امریکی حملہ غیر قانونی اور غیر دانشمندانہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کی تبدیلی یا تیل کے حصول کے لیے جنگوں کو امریکی طاقت کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کی اصل قیمت امریکی عوام کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ کاملا ہیرس کے مطابق امریکی عوام جنگوں کے حق میں نہیں ہیں اور وہ مسلسل جھوٹ سن سن کر تنگ آ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر حملہ کیا تھا، جس کے دوران امریکی ڈیلٹا فورس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے حراست میں لے لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا پر کاملا ہیرس
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔