جماعت اسلامی الزام تراشی اور جھوٹے دعوؤں سے سیاست چمکاتی ہے:ترجمان سندھ حکومت
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
ترجمان سندھ حکومت گنہور خان اسران نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ہمیشہ الزام تراشی اور جھوٹے دعوؤں سے سیاست چمکانے کی عادی رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں عوامی فلاح اور ترقی کے کاموں میں جماعت اسلامی کا کوئی حصہ نہیں اور یہ لوگ صرف اعتراضات اور تنقید کا ہنر رکھتے ہیں، پیپلز پارٹی پر کراچی کو تباہ کرنے کا الزام بالکل بے بنیاد اور تاریخی حقائق کے منافی ہے، میئر کے انتخابات میں بڑی شکست کے بعد حافظ نعیم الرحمان صدمے سے دوچار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کےچاروں صوبوں میں گورننس کا بحران ہے۔
گنہور خان اسران نے کہا کہ پانی اور سیوریج کے مسائل پر جماعت اسلامی کے الزامات عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں، شہر اور دیہات میں پیپلز پارٹی نے بنیادی سہولیات کے متعدد منصوبے چلائے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر کے بیانات میں دھونس اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں اور ان کے بیانات عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔