ننکانہ صاحب، واربرٹن میں آلودگی پھیلانے والا بھٹہ خشت مسمار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ننکانہ صاحب (نیوزڈیسک)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ضلع ننکانہ صاحب کے علاقے واربرٹن میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف بڑی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ محمد تسلیم اختر راؤ کی نگرانی میں محکمہ ماحولیات نے زگ زیگ ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے والے بھٹے کو مسمار کر دیا۔ کارروائی آلودگی پھیلانے اور سموگ کا باعث بننے والے بھٹے کے خلاف کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر تسلیم اختر راؤ کا کہنا ہے کہ ماحول میں بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے اور متعلقہ ادارے روزانہ کی بنیاد پر انڈسٹریل یونٹس اور بھٹہ جات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور حکومت پنجاب عوام کو بہتر اور صاف ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ ماحول کو سازگار بنانے کے لیے گرینڈ شجرکاری مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق صاف اور محفوظ ماحول کے قیام کے لیے شہریوں کا تعاون ناگزیر ہے، جبکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔