یتیم اور بے سہارا بچیاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مہمان بن گئیں، تحائف تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے زمونگ کور کی یتیم اور بے سہارا بچیوں کو خصوصی مہمان بنا کر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ایک خوبصورت ظہرانے کا اہتمام کیا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بچیوں کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا دورہ کرایا، ان کے ساتھ خوشگوار ماحول میں سیلفیاں بنائیں اور ان سے تفصیل سے بات چیت کی، جبکہ تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے یتیم بچوں کو وزیر اعلیٰ ہاؤس بلا کر ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر وقت گزارا اور بچوں کو احساس دلایا کہ وہ تنہا نہیں ہیں pic.
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) January 4, 2026
بچیوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں گزارے گئے وقت کو یادگار قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا دل سے شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ زمونگ کور کی اصل مالک ہیں اور ہم آپ کے خادم ہیں۔ جب تک آپ تعلیم مکمل کر کے اپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہو جاتیں، عمران خان کی حکومت آپ کا مکمل خیال رکھے گی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے بچیوں کے مسائل اور شکایات کے حل کے لیے کمپلینٹ سیل قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ بچیوں کی آواز مزید مؤثر انداز میں سنی جا سکے۔
واضح رہے کہ ’زمونگ کور‘ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو پاکستان میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے کام کر رہی ہے۔
اس تنظیم کا مقصد بچوں کو ایک محفوظ، معاون، اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ تعلیم حاصل کریں، ان کی ضروریات پوری ہوں اور ان کی ذہنی و جسمانی ترقی کا بھرپور خیال رکھا جائے۔ ’زمونگ کور‘ پشتو زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’ہمارا گھر‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بے سہارا بچیاں تحائق تقسیم سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بے سہارا بچیاں سہیل ا فریدی وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز سہیل آفریدی نے زمونگ کور وزیر اعلی بے سہارا
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں