5 بڑوں کی بیٹھک کے لیے دیانتداری سب سے اہم، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوگا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 5 بڑوں کی بیٹھک کے لیے دیانتداری سب سے اہم ہے، لیکن عمران خان تو اپنی ذات کے علاوہ کسی کا سوچتے ہی نہیں، اس لیے میرا نہیں خیال کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو سکے گی، ان کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان اپنی ذات سے سوچنا شروع کرتے ہیں اور وہیں ختم کردیتے ہیں، گزشتہ کچھ عرصے سے پی ٹی آئی مختلف رنگ دکھا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے باہر ڈراما لگاتی ہے، باز نہ آنے پر حل نکالنا ہوگا، رانا ثنااللہ
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی میں کچھ لوگ مذاکرات اور کچھ تصادم کی بات کرتے ہیں، پارٹی کے اندر ہی جب تقسیم ہے تو یہ پانچ بڑوں میں کیسے شامل ہو سکتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ وفاق کو بلیک میل اور حملہ کرنے کی باتیں کچھ عرصے سے کی جا رہی ہیں، عمران خان کا مفاہمت اور بات چیت کا ایجنڈا ہی نہیں۔ خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ مفاہمت اور گفتگو کے لیے ایجنڈا کون طے کرےگا؟
انہوں نے کہاکہ محمود اچکزئی بڑے اعتماد سے عمران خان کے حوالے سے بات کررہے ہیں، میں ان سے پوچھوں گا کہ اس اعتماد کی وجہ کیا ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ پی ٹی آئی نے آج تک 9 مئی کی مذمت نہیں کی، یہ لوگ شہدا کی نماز جنازہ میں نہیں جاتے، جبکہ پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی ہمارے ساتھ نہیں کھڑی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی مزید کوئی مزاحمت کرنا چاہتی ہے تو کرلے، پیشگی شرائط پر مذاکرات نہیں ہوں گے، طلال چوہدری
خواجہ آصف نے کہاکہ افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں دی رہی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کابل حکومت دہشتگرد عناصر کے پیچھے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews رانا ثنااللہ سیاسی عدم استحکام سیاسی مذاکرات عمران خان فیلڈ مارشل عاصم منیر نواز شریف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ سیاسی عدم استحکام سیاسی مذاکرات فیلڈ مارشل عاصم منیر نواز شریف وی نیوز خواجہ ا صف پی ٹی ا ئی نے کہاکہ کے لیے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔