تصویر سوشل میڈیا۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیجنگ کا دورہ کیا۔

اس موقع پر پاکستان چین وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی۔ 

بیجنگ: پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل، یادگاری لوگو کی تقریب رونمائی

پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر یادگاری لوگو کی رونمائی کی تقریب بیجنگ میں منعقد ہوئی۔

اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران دو طرفہ تعلقات کے مکمل دائرہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی سطح پر درپیش اہم سیاسی وسلامتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

سی پیک کے جاری اور آئندہ منصوبوں، پیشرفت اور باہمی تعاون پر بھی گفتگو کی گئی۔ دو طرفہ تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور معاشی روابط بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون اور ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ 

عوامی روابط، تعلیمی تبادلوں اور ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ 

جبکہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر تقریبات اور سرگرمیاں منانے پر اتفاق کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: تعلقات کے کیا گیا پاک چین

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار