Express News:
2026-07-24@02:07:19 GMT

نسخۂ نوابی

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے فائنل میں پاکستان کے روایتی حریف بھارت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے حیرت انگیز کارکردگی دکھائی۔

پاکستانی کھلاڑی زبیر منہاس نے 172 رنز کی شان دار اننگز کھیلی اور پاکستان کو 191 رنز کے بھاری مارجن کی جیت سے ہم کنار کرایا۔ یہ کارنامہ یقیناً قابل تحسین ہے اور اس سے یہ بھی امید بندھتی ہے کہ یہ انڈر 19 کے لڑکے آگے چل کر ہمیں بین الاقوامی مقابلوں میں اسی طرح سرخ رو کریں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نے بجا طور پر ٹیم کے کھلاڑیوں اور انتظامی عملے کو وزیر اعظم ہاؤس میں مدعو کرکے ان کی میزبانی کی اور انھیں شاباش دی جس کے وہ بجا طورپر مستحق تھے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ٹیم کے ہر کھلاڑی کو ایک کروڑ روپے کی گراں قدر رقم سے نوازا۔ نیز ٹیم کے انتظامی عملے کو بھی پچیس، پچیس لاکھ روپے کے انعامات عطا فرمائے۔ اس سے کرکٹ کے پاکستان میں فروغ کے امکانات روشن ہوں گے، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگئی اور کرکٹ میں ہمیں جو عالمی حیثیت حاصل ہے وزیر اعظم صاحب کے خیال میں اس کو تقویت پہنچے گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ٹیم کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں مدعو کیا۔ ان کے کارنامے کی توصیف فرمائی، اس موقع پر فیلڈ مارشل صاحب نے بجا طور پر فرمایا کہ ایشیا کپ میں پاکستان کی یہ کامیابی قوم کے لیے باعث فخر ہے۔ ٹیم کا نظم و ضبط، ٹیم ورک اور فارمنگ اسپرٹ قابل تحسین ہے۔ فیلڈ مارشل صاحب نے مزید کہا کہ ٹیم کے ان نوجوانوں کی محنت اور لگن ان کی بے پناہ صلاحیتوں کی عکاس ہے۔

وہ میدان کے اندر اور باہر اپنی صلاحیتوں کو برقرار رکھیں اور پاکستان کے سفیر بن کر رہیں۔ یہ تھے وہ الفاظ جن کی ٹیم کو ضرورت تھی اور جو اس کے پیش نظر رہنا چاہئیں۔ ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ٹیم کے ہر کھلاڑی کو پچاس پچاس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے بھی ٹیم کی انتظامیہ کے ارکان کو مناسب رقم سے ضرور نوازا ہوگا۔

ایسے مواقع پر جو نقد انعامات دیے جاتے ہیں، ان کا مقصد کچھ کھلاڑیوں کی مفلسی دور کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ان کی حوصلہ افزائی کا ایک مناسب طریقہ ہوتا ہے اور اسے ہونا چاہیے۔ ہمارے یہاں یہ دستور رہا ہے کہ ہاکی اور کرکٹ وغیرہ کھیلوں کے کھلاڑیوں کو مختلف دفاتر میں مناسب عہدوں پر فائز کیا جاتا تھا اور ان کو کھیل کے مواقع فراہم کیے جاتے تھے تاکہ وہ اپنی گھریلو ذمے داریوں کو مناسب طور پر ادا کر سکیں اور ادھر سے بے نیاز ہو کر اپنی توجہ کھیل پر مرکوز کر سکیں۔ اس لیے ہم ایک عرصے تک ہاکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بنے رہے۔

قدیم زمانوں میں نوابین اور حکمران اپنے درباروں سے پہلوان وابستہ رکھتے ۔ ان کو وظائف دیتے تھے اور توقع کرتے تھے کہ ان کے پہلوان دوسری ریاستوں یا نوابوں اور راجاؤں کے پہلوانوں کو زیر کر سکیں گے۔ یہ سارے اہتمام کچھ بے وجہ نہیں ہوتے تھے مگر یہ اس انداز میں کیے جاتے تھے کہ متعلقہ فرد اپنے فن میں یکتا ہو کر نکلتا، اپنی ریاست یا اپنے دیس کا نام بھی روشن کرتا اور بھوکوں مرنے سے بھی بچا رہتا۔ اسی لیے ان ریاستوں نے پہلوان اور گلوکار خوب پیدا کیے۔ ہم نے یہ جو طریقہ اپنایا ہے ایک تو اس میں مبالغہ ہے ایک کھیل کے ایک نتیجے پر انعامات کی یہ بارش محل نظر ہے مگر اس کا ایک نقصان بھی ہے۔ رقم آپ نے کتنی بڑی دے دی ہو وہ خرچ ہو جاتی ہے کھلاڑی کا روزگار سے بے نیاز ہو کر اپنے خاندان کی پرورش کے مناسب انتظامات سے مطمئن ہو کر کھیل کی دنیا میں نام کمانا ہی نتیجہ خیز عمل ہوتا ہے۔

اس عطائے خسروانہ کا ایک اور پہلو بھی محل نظر ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی سائنس دان کو، تاریخ کے کسی معلم کو، علم کے کسی محقق کو بھی اس طرح اپنی فیاضی سے نوازا ہے یا آپ کی عنایات و اکرام کا واحد مرکز کھیل کا میدان رہ گیا ہے۔

ایک زمانے میں یہ شعر لوگوں کی ورد زبان رہا کرتا تھا:

کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب

پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب

آپ کی ترجیحات یکسر تبدیل ہو گئی ہیں۔ آپ طالب علم کو ایک حقیر سا لیپ ٹاپ عنایت کر کے بڑے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ آپ نے علم اور طالب علم کی بڑی خدمت کی حالاں کہ وہ طالب علم اس لیپ ٹاپ کو لیے مارا مارا پھرتا ہے اور اسے روزگار کے مواقع فراہم نہیں ہوتے۔ آپ کتنے اچھے لائق طالب علموں کو ان کی شان دار تعلیمی کارکردگی پر کب اپنے مصارف کے لیے اعلیٰ تعلیم کی غرض سے ان غیر ملکی درس گاہوں میں نہیں بھیجتے اور ان کے تعلیمی مصارف کیوں برداشت نہیں کرتے کہ وہ اپنے ہی ملک میں ادنیٰ درجے کی نوکریوں کے لیے مارے مارے پھرتے رہیں۔

کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ آپ نے جامعات کے پوزیشن یافتہ طلبا کو وظائف عطا کیے ہوں کہ غریب والدین کے یہ ہونہار بچے اعلیٰ تعلیم سے مزین ہو کر اپنے وطن کا نام روشن کر سکیں ۔ آپ کے علم میں شاید یہ نہ ہو مگر آپ نے معاشرے کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ والدین کہتے ہیں کہ بچوں پڑھنا وڑھنا چھوڑو۔ کھیل کے میدان میں نامور بنو کہ اس ملک میں ناموری، خوشحالی اور خوش باشی کے لیے کھیل اور کھیل ضروری ہے۔ یہ پڑھنا لکھنا کسی کام آنے والا نہیں۔

پڑھو گے لکھو گے تو ہو گے خراب

کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طالب علم کر سکیں ٹیم کے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف