قاضی احمد: ٹول پلازہ کے قریب مویشیوں سے بھرا ٹرک الٹ گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-11-5
قاضی احمد( نمائندہ جسارت )قاضی احمد کے قریب قومی شاہرہ پر جھلومسجد کے قریب ٹول پلازہ پر مویشیوں سے بھرا ٹرالر الٹ گیا جسکے نتیجے میں سینکڑوں کی تعداد میں بھیڑاوربکریاں ہلاک ہو گئیں جبکہ 5 افراد شدید زخمی ہو گئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا مویشی کیبیوپاریوں کا ٹول پلازہ انتظامیہ اور موٹروے پولیس کی نااہلی کے خلاف احتجاج متعلقہ اعلیٰ افسران سے فوری نوٹس لیتے کامطالبہ انکاکہناتھاکہ ہماری گاڑی کوبھاری رشوت کے چکر میں بلا وجہ روکا گیا جس کی وجہ سے کھڑاٹرالر اچانک الٹ جانے سے ہماری 200سے زائد بھیڑ اور بکریاں مرجانے سے ہمارا کروڑوں روپیکا نقصان ھوگیا ھے بدقسمت مویشیوں سے بھراٹرالرحیدرآباد سے پنجاب کیطرف جارھاتھا کہ حادثہ کا شکار ہو گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔