روہڑی تا کراچی ریلوے سرپرائز چیکنگ مسافروں کی ٹکٹیں چیک کیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) روہڑی تا کراچی ریلوے سرپرائز چیکنگ، 3 لاکھ 24 ہزار روپے کی وصولی ریلوے حکام کی جانب سے روہڑی تا کراچی مختلف ٹرینوں اور اسٹیشنز پر اچانک (سرپرائز) چیکنگ کا عمل انجام دیا گیا۔ سرپرائز چیکنگ ٹیم ممبران میں گرروپ انسپکٹر کے ہمراہ جمشید ،افتخار، نظام الدین اور استخار شامل تھے۔ٹیم انچارج نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سرپرائز چیکنگ سی او عامر بلوچ، سی سی ایم طارق سیپرا اور ڈپٹی سی سی ایم پیسنجر ناصر نظیر کی ہدایت پر کی گئی، جس کے تحت کراچی سے روہڑی تک مختلف ٹرینوں اور اسٹیشنز کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا۔چیکنگ کے دوران کے۔ہار۔کے سیکشن میں آنے اور جانے والی متعدد ٹرینوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں 11 اپ، 13 اپ اور 47 اپ جبکہ 10 ڈاؤن، 42 ڈاؤن اور 16 ڈاؤن ٹرینیں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ کے اسٹیشن پر بھی علیحدہ طور پر سرپرائز چیکنگ کی گئی، جہاں 13 اپ، 5 اپ اور 1 اپ ٹرین کا معائنہ کیا گیا۔سرپرائز چیکنگ کے دوران مسافروں کے ٹکٹوں، ٹریفک ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔دورانِ چیکنگ جی ٹریفک کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق 192 کے حساب سے 2 لاکھ 84 ہزار 690 روپے اور 39 ہزار 950 روپے وصول کیے گئے، یوں مجموعی طور پر 3 لاکھ 24 ہزار 640 روپے کی وصولی ظاہر کی گئی۔ریلوے حکام کے مطابق اس سرپرائز چیکنگ کا بنیادی مقصد ریلوے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا، مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ حکام نے چیکنگ کے نتائج کو مجموعی طور پر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی ایسے اچانک معائنے جاری رکھے جائیں گے تاکہ ریلوے نظام میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرپرائز چیکنگ کی گئی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔