خط میں سماجی اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو نشانہ بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جائز سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اپیل کی ہے کہ وہ عالمی ادارے کی منظورشدہ ان قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں جن میں کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایف پی کے قائم مقام صدر محمود احمد ساغر نے انتونیو گوتریس کے نام ایک تفصیلی خط میں ان کی توجہ 5جنوری کو یوم حق خود ارادیت منانے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف مبذول کروائی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 5جنوری 1949ء کی قرارداد کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق کیا جائے گا اور اس کے لئے علاقے میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کرائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ 77سال بعد بھی تنازعے کا حل نہ ہونا جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کشمیری عوام کے لیے سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔ خط میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کو زندہ جہنم قرار دیا گیا جس میں شہری مسلسل بھارتی فوجیوں کی بندوقوں کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور بھارتی فورسز نہتے شہریوں خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے لئے جعلی مقابلے کے ڈرامے رچاتی اور مسلسل محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کرتی ہیں۔ محمود ساغر نے پہلگام حملے کے بعد بڑھتی ہوئی ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں مسلم آبادی کو ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کے لئے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

خط میں سماجی اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو نشانہ بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جائز سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ 5 اگست 2019ء سے پہلے اور اس کے بعد آزادی پسند رہنمائوں، سیاسی و سماجی کارکنوں، وکلاء اور تاجروں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور وہ بدستور بھارتی جیلوں میں نظربند ہیں۔ بھارتی حکومت علاقے میں ایسے قوانین نافذ کر رہی ہے جن کا مقصد خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور کشمیریوں کو ان کے وسائل، شناخت، ثقافت، زمینوں اور حق خودارادیت سے محروم کرنا ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ نے دے رکھی ہے۔

محمود ساغر نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی امن کے نگہبان کے طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کا موثر نوٹس لے اور بھارت پر دبائو ڈالے کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور انسانی حقوق اقوام متحدہ کہا گیا کے لیے

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت