چین پاکستان آہنی دوستی نئی بلندیوں کی جانب، سی پیک کے نئے مرحلے کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پاکستان اور چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے ورژن 2.0 کی تعمیر پر اتفاق کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے، خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ اتفاق بیجنگ میں منعقدہ چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7ویں دور کے دوران کیا گیا، جس کی مشترکہ صدارت چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کی۔
یہ بھی پڑھیں:
دفتر خارجہ کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری 2026 تک چین کا دورہ کیا، جس کے دوران دونوں ممالک نے دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت، کان کنی، ثقافتی روابط اور عوامی تبادلوں سمیت وسیع شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
At the invitation of Chinese Foreign Minister Wang Yi, DPM/FM Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 visited Beijing to co-chair the 7th Round of the Pakistan–China Foreign Ministers’ Strategic Dialogue.
The two sides reviewed the entire spectrum of Pakistan–China relations and… pic.twitter.com/G2GeJ9Kxye
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 4, 2026
علاقائی و عالمی امور بالخصوص جنوبی ایشیا، افغانستان، مسئلہ کشمیر، مشرق وسطیٰ اور عالمی حکمرانی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک نے 2026 میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی مناسبت سے خصوصی تقریبات منعقد کرنے کا اعلان کیا، جن کا مقصد آہنی دوستی کو مزید مضبوط بنانا اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنا ہے۔
اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور چین ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات پر غیرمتزلزل حمایت جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں:
پاکستان نے ایک چین پالیسی سے اپنی غیرمشروط وابستگی دہراتے ہوئے تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سے متعلق چین کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی بھرپور تائید کی۔
دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنانے، چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو محفوظ ماحول میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا۔
مزید پڑھیں:
سی پیک کے تحت صنعت، زراعت اور کان کنی کو ترجیحی شعبے قرار دیتے ہوئے گوادر بندرگاہ کی ترقی، قراقرم ہائی وے کی بلا تعطل بحالی، خنجراب پاس کی سال بھر آمد و رفت اور تیسرے فریق کی شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا۔
دونوں ممالک نے خلائی تعاون، بینکاری و مالیاتی شعبے، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی اور تکنیکی تربیت میں شراکت داری بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
اعلامیے میں مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طور پر حل کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ غزہ میں فوری، مستقل اور غیرمشروط جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
افغانستان سے متعلق دونوں ممالک نے دہشت گرد تنظیموں کے مکمل خاتمے اور ایک جامع سیاسی نظام کے قیام پر زور دیا۔
مزید پڑھیں:
دونوں فریقین نے اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے، کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور بالادستی و بلاک سیاست کی مخالفت کے عزم کا اظہار کیا۔
چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے 27-2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت پر بھی پاکستان کو مبارکباد دی۔
اعلامیے کے مطابق اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا اگلا دور آئندہ برس اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار اقوام متحدہ بیلٹ اینڈ روڈ پاکستان تائیوان تبت جموں و کشمیر چین دہشت گردی زیرو ٹالرینس پالیسی سلامتی کونسل سنکیانگ سی پیک شنگھائی تعاون تنظیم غزہ ہانگ کانگ وانگ یی وزیر خارجہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار اقوام متحدہ بیلٹ اینڈ روڈ پاکستان تائیوان چین زیرو ٹالرینس پالیسی سلامتی کونسل سنکیانگ سی پیک شنگھائی تعاون تنظیم ہانگ کانگ وانگ یی سی پیک چین نے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔