وینزویلا میں پیدا ہونے والی صورتحال، پاکستان کا رد عمل بھی آگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نے وینزویلا میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کے عوام کی فلاح و بہبود کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان وینزویلا میں بدلتی ہوئی صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں موجود پاکستانی کمیونٹی کے ارکان کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اقدامات کر رہا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وینزویلا میں
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔