5 جنوری 1949: کشمیر پر اقوام متحدہ کا تاریخی فیصلہ، حقِ خودارادیت آج بھی منتظر
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
آج 5 جنوری کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی اس تاریخی قرارداد کی یاد منائی جا رہی ہے جو 5 جنوری 1949 کو سلامتی کونسل نے منظور کی تھی۔
اس قرارداد کے تحت کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور واضح کیا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر نہ تو بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور نہ ہی کوئی حل شدہ تنازع، بلکہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔
اقوام متحدہ کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزاد، شفاف اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونا تھی۔
یہ اصول برصغیر کی تقسیم کے دوران دیگر ریاستوں پر بھی لاگو کیا گیا تھا، جب 560 سے زائد نوابی ریاستوں کو پاکستان یا بھارت سے الحاق کا اختیار دیا گیا تھا اور کسی آزاد یا خودمختار ریاست کا کوئی آئینی تصور موجود نہیں تھا۔
ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر کے معاملے میں بھی یہی اصول اپنایا جانا تھا، کیونکہ اس خطے کی جغرافیائی حیثیت، معاشی روابط، آبادی کی اکثریت اور سیاسی رجحانات فطری طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔
اگرچہ یہ قرارداد آج بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہے اور نہ کبھی منسوخ ہوئی اور نہ ہی اس کی قانونی حیثیت ختم ہوئی، تاہم گزشتہ سات دہائیوں سے اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس تاخیر نے اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر زمین کے تنازع سے زیادہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار کا معاملہ ہے۔
5 جنوری اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی خطے پر قبضہ عوامی مرضی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ مبصرین کے مطابق جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا، یہ دن ایک ادھورے عالمی وعدے کی علامت کے طور پر منایا جاتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی گیا تھا
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں