ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
4 جنوری کی تاریخ: آسٹریلیا، میلبورن کا کرکٹ گراؤنڈ۔ ایشز کا آخری ٹیسٹ میچ۔ ہر رنگ و نسل کے 50 ہزار تماشائی۔ ان سب کی دلچسپی کا مرکز میچ نہیں، میچ سے پہلے منعقد ہونے والی 10 منٹ کی تقریب۔ کرکٹ آسٹریلیا کے تمام عہدیدار، دنیا بھر کے معروف لوگ اسٹیڈیم میں جمع۔ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ اپنے ٹی وی پر نظریں جمائے ہوئے۔ میچ کے آغاز سے پہلے اناؤنسر پورے جوش و جذبے سے کہتا ہے: اب تشریف لاتے ہیں قوم کے وہ ہیرو جنہوں نے 14 دسمبر کو بونڈائی کے ساحل پر ہونے والی دہشتگردی میں دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔ 50 ہزار لوگ اپنی نشستوں سے یکدم کھڑے ہو گئے۔
شکرانے کی تالیوں اور تحسین کے نعروں سے سارا اسٹیڈیم گونج اٹھا۔ سب نے یک زبان ہو کر “Forever in our heart” کا ترانہ پڑھا۔ جن ہیروز کا شکریہ ادا کیا گیا ان میں پیرا میڈیکل اسٹاف بھی تھا، پولیس افسران بھی تھے، وہ ڈاکٹرز اور نرسیں بھی تھیں جو چھٹی کے دن زخمیوں کی مدد کو پہنچے، لائف گارڈ بھی تھے جو جائے وقوع پر موجود تھے۔
چایا دادون نامی ایک 14 سالہ سیاہ فام لڑکی بھی بیساکھیوں کے سہارے موجود تھی جسے فائرنگ کے دوران زخمی ہونے کے باوجود زخمیوں کی حفاظت کرتے دیکھا گیا۔ سب سے آخر میں احمد الاحمد سامنے آئے۔ ان کا زخمی بازو اب تک سلنگ میں لپٹا ہوا تھا۔ احمد نے 14 دسمبر کو اس دہشتگردی کے واقعے میں ایک دہشتگرد سے بندوق چھین کر بے شمار لوگوں کی جانیں بچائیں۔ سارا اسٹیڈیم احمد کے آنے پر جوش و جذبے سے بھر گیا۔ 50 ہزار تماشائیوں کی آنکھوں میں آنسو۔ ہزاروں ہاتھ دعا کے لیے بلند۔
کسی ایک تماشائی نے یہ سوال نہیں کیا کہ احمد تو مسلمان ہے اور حملہ یہودیوں پر ہوا ہے تو ہم اس کا شکریہ کیوں ادا کریں؟ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ 14 سالہ لڑکی تو سیاہ فام ہے ہم اس کی شان میں کیوں گیت گائیں؟ کسی نے یہ جرات نہیں کی کہ یہ نرسیں تو کسی اور ملک سے آئی ہیں ہم ان کی تعظیم کیوں کریں؟ کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ کہے کہ یہ ڈاکٹر تو کسی اور قوم اور صوبے کے ہیں ہم ان کے اعزاز میں تحسین کے نعرے کیوں لگائیں؟ 50 ہزار لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی کوئی متنازع سوال نہیں کیا۔ کوئی اختلاف نہیں کیا۔ سب کو پتا تھا کہ مشکل وقت میں کس نے مدد کی؟ کس نے دلیری دکھائی؟ کون سیسہ پلائی دیوار بنا ؟
احمد ایک شامی النسل غریب دکاندار۔ وہ پھل سبزی کی ریڑھی لگاتا۔ محنت مزدوری کرکے گزارا کرتا۔ اس کی 2 کم سن بٹیاں ہیں۔ اس نے ایک دہشتگرد پر قابو پا کر درجنوں جانیں بچائیں ۔ احمد نے کسی سے مالی مدد کی اپیل نہیں کی۔ لیکن پوری آسڑیلوی قوم نے دلیری کے اس کارنامے پر اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ ساری دنیا سے لوگوں نے اس میں حصہ لیا۔ اب تک احمد کے اکاؤنٹ میں“GO FIND ME” مہم کے تحت 42 کروڑ سے زائد روپے جمع ہو چکے ہیں اور ساری دنیا سے تشکر کا یہ سلسلہ تھم ہی نہیں رہا۔
میچ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ دنیائے کرکٹ کی 2 بڑی ٹیمیں اپنے ہیروز کو دست بستہ گارڈ آف آنر پیش کرنے کو تیار تھیں۔ کرکٹ کے عظیم ستارے ان ہیروز سے ہاتھ ملانے، ان کو گلے لگانے، انکے ہاتھ چومنے کو سعادت سمجھ رہے تھے۔ تحسین کے لیے بجنے والی تالیاں کسی طور تھم نہیں رہی تھیں۔ تشکر کے نعرے رک ہی نہیں رہے تھے۔ جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ 50 ہزار تماشائیوں میں سے کوئی اپنی نشستوں پر بیٹھنے کو تیار ہی نہیں تھا۔
اناؤنسر کی آواز جوشِ عقیدت سے بھر گئی۔ تعظیم کے آنسو کتنی ہی پلکوں سے چھلک پڑے۔ ہر قوم، ہر مذہب، ہر نسل کے لوگ ان شجیع لوگوں کے لیے ممنونیت کا اظہار کر رہے تھے۔ احسان مندی کے جذبات ہر طرف سے امڈ رہے تھے۔ ساری قوم یک جان اور یک زبان ہو کر دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے والوں کی ممنون ہو رہی تھی۔ 10 منٹ کی تقریب میں آسٹریلیا والوں نے بتادیا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اور اس مقابلے میں فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کی عزت کیسے کرنی ہے۔
یہ بات کہتے کہتے زبان تھک گئی ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ یہ سچ بتاتے بتاتے ہم ہلکان ہو گئے ہیں کہ 80 ہزار کے قریب فوج کے جوان، پولیس کے سپاہی، رینجرز کے عہدیدار، ڈاکٹرز، نرسیں اور عام شہری دہشتگردی کے حملوں میں جان سے گذر چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ہم نے اتنی عزت نہیں دی جتنی آسٹریلیا میں اس 10 منٹ کی تقریب میں کی گئی۔
سیاسی، علاقائی، لسانی، کاروباری اور ذاتی مفادات نے ہمیں ایک سازش کے تحت دہشتگردی کے معاملے میں ابہام، تذبذب اور شکوک کا شکار کیا گیا۔ کوئی کہتا ہے ان دہشتگردوں سے لڑو نہیں، انہیں اپنے گھر میں بساؤ۔ کوئی جواز پیش کرتا ہے کہ ان کا خاتمہ نہ کرو، ان سے مذاکرات کرو۔ کوئی دلیل دیتا ہےکہ یہ افغانستان سے آتے ہیں اس لیے انہیں قتل و خون کی آزادی دے دو۔ کوئی مذہب کی آڑ لے کر کہتا ہے کہ یہ دہشتگرد بھی مسلمان ہیں، ان کے خلاف لڑنا درست نہیں۔ کوئی اشتعال دلاتا ہے کہ ہے چونکہ اس ملک میں مارشل لا لگتے رہے اس لیے شہدا کی تحسین کی ضرورت نہیں۔
کوئی زہر اگلتا ہے کہ ایک سیاسی لیڈر چونکہ فوج کے خلاف ہے اس لیے ان شہدا کی حرمت کی ضرورت نہیں۔ کوئی توجیح پیش کرتا ہے کہ 9 مئی کو شہدا کی یادگار جلانے والے حق بجانب تھے۔ کوئی ان دلیروں کی قربانیوں پر طنز کرتا ہے، کوئی ’جین زی‘ سے ان کے خلاف آرٹیکل لکھواتا ہے۔ کوئی نوجوان نسل کے ذہنوں میں ان شہیدوں کے خلاف زہر بھرتا ہے۔
بدقسمتی سے ہر روز خبر آتی ہے کہ آج سیکیورٹی فورسز کے اتنے جوان دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہو گئے۔ ان میں سے کسی ایک شہید کی بھی ہم نے بحیثیتِ قوم اتنی عزت کی ہوتی جتنی اس میچ میں دہشتگردوں سے لڑنے والوں کی گئی تو یقین مانئے اس ملک سے دہشتگردی ختم ہو چکی ہوتی۔
یاد رکھیے جب کوئی شیر دل جوان دہشتگردوں کا مقابلہ کرتا، جان اس ارضِ پاک پر نچھاور کرتا ہے تو یہ وقت تاریخ کے طعنے دینے کا نہیں ہوتا، یہ لمحہ سیاسی اختلاف چکانے کا نہیں ہوتا، یہ وقت مصلحتوں کا شکار ہونے کا نہیں ہوتا۔ یہ مقام صرف اور صرف تشکر، توقیر، تسلیم، تعظیم اور تحسین کا ہوتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف فوج نہیں، پوری قوم لڑتی ہے۔ جب قوم کے ذہن سے ابہام ختم ہو جائے گا، جب شکوک پیدا کرنے والوں کو یقین دلا دیا جائے گا، جب دہشتگردوں کے حق میں بیانیے بنانے والے پس منظر میں چلے جائیں گے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فتحِ مبین مقدر بنے گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلیا میلبورن احمد الاحمد دہشتگردی کے خلاف جنگ دہشتگردی کے خلاف جنگ کرتا ہے رہے تھے نہیں کی کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔