پشاور اور سندھ ہائیکورٹ کے ججز کی مستقلی، جوڈیشل کمیشن نے اجلاس طلب کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سندھ ہائیکورٹ کے 12 ایڈیشنل ججز کی مستقل تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 جنوری کو طلب کیا گیا ہے، اجلاس چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں ہوگا۔
اجلاس میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسلیم سلطانہ اور جسٹس ریاضت علی سحر کی مستقلی کے ساتھ ساتھ جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس خالد حسین شہانی، اور جسٹس عبدالحامد بھرگی کی مستقل حیثیت پر غور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس نامزد
مزید برآں، جسٹس سید فیاض الحسن شاہ، جسٹس جان علی جونیجو اور جسٹس ناصر احمد بھنبوڑو کی مستقلی کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے، جبکہ جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس عثمان علی اور جسٹس محمد جعفر رضا کی مستقل تقرری پر بھی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے معاملات پر بھی بحث متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم: سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی ازسرِنو تشکیل
دوسری جانب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا ایک اور اجلاس 14 جنوری کو ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں ہوگا، جس میں پشاور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے معاملات پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبد الفیاض اور جسٹس فرح جمشید کی مستقلی کے علاوہ جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس صبعت اللہ، اور جسٹس صلاح الدین کی مستقل حیثیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: جوڈیشل کمیشن نے چاروں ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کے ناموں کی منظوری دے دی
مزید برآں، جسٹس صادق علی، جسٹس مدثر امیر، جسٹس اورنگزیب، اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کی مستقلی پر بھی بحث ہوگی۔
جوڈیشل کمیشن کے اس اجلاس کا مقصد ایڈیشنل ججز کی مستقل تقرری کے معاملات کو حتمی شکل دینا ہے تاکہ پشاور ہائیکورٹ کی کارکردگی میں استحکام اور عدالتی نظام میں شفافیت برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی بینچز ایڈیشنل ججز پشاور ہائیکورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سندھ ہائیکورٹ عدالتی نظام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈیشنل ججز پشاور ہائیکورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سندھ ہائیکورٹ عدالتی نظام پشاور ہائیکورٹ سندھ ہائیکورٹ جوڈیشل کمیشن ججز کی مستقل کی مستقلی کے ایڈیشنل ججز ہائیکورٹ کے کے معاملات چیف جسٹس اور جسٹس جائے گا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔