IRA-2012میں ترمیم پر NLFکا مشاورتی اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل لیبر فیڈریشن کے زیرِ اہتمام وی ٹرسٹ کے دفتر گلشن اقبال کراچی میں انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2012 میں حکومت کی جانب سے مجوزہ ترامیم کے مسودے پر غور و خوض اور تفصیلی جائزہ لینے کے لیے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی میزبانی نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی نے کی۔ اجلاس میں پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی جنرل سیکرٹری زہرا خان، ناؤ کمیونٹی کی سربراہ فرحت پروین، پائلر کے نمائندے جنت خان، پی سی ای ایم فیڈریشن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری غلام مرتضیٰ تنولی، پی ٹی سی ایل ورکرز اتحاد کے سینئر نائب صدر وحید حیدر شاہ، نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل شیخ، کراچی کے صدر خالد خان، جنرل سیکرٹری قاسم جمال، سوشل سیکورٹی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری وسیم جمال سمیت دیگر مزدور رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں شمس الرحمن سواتی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس کے مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے اسلام آباد میں وفاقی سیکرٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ (MOPHRD) کی صدارت میں ہونے والے فیڈرل سہ فریقی کنسلٹیشن کونسل (FTCC) کے 2 اجلاسوں سے متعلق شرکاء کو آگاہ کیا اور انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2012 میں مجوزہ ترامیم کے مسودے پر تفصیلی بریفنگ دی۔بعد ازاں غلام مرتضیٰ تنولی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری PCEM نے بھی شرکاء کو مجوزہ ترامیم کی شق وار تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں شرکاء نے مندرجہ ذیل امور پر شدید تشویش کا اظہار کیا:مجوزہ ترامیم کا مسودہ تیار کرتے وقت سہ فریقی مشاورتی عمل (حکومت، آجر اور مزدور) کو نظرانداز کیا گیا۔ سندھ اور پنجاب لیبر کوڈز کو مقامی سماجی، معاشی اور عملی زمینی حقائق کے برعکس مغربی ممالک کے ماحول کو مدِنظر رکھ کر تیار کیا گیا، جسے خطے کے دیگر ممالک کی ٹریڈ یونینز نے بھی عالمی اداروں کی ایما پر تیار کردہ منصوبہ قرار دے کر مسترد کیا ہے۔مسودہ تیار کرتے وقت عملی تجربہ رکھنے والے ٹریڈ یونین ماہرین کو شامل نہیں کیا گیا۔
فیصلہ کیا گیا کہ تمام شریک تنظیمیں اس مسودے پر اپنی تحریری آراء اور تجاویز لازمی جمع کرائیں گی، تاہم اس عمل میں جلد بازی سے گریز کرنے پر زور دیا گیا۔ پیپلز لیبر بیورو کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد لیبر سے متعلق قانون سازی وفاق کا اختیار نہیں رہی۔ مزید برآں اجلاس میں نجکاری کے عمل پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے نجکاری اور لیبر قوانین میں بیرونی دباؤ پر کی جانے والی ترامیم کے کلچر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تمام لیبر فیڈریشنز اور ٹریڈ یونینز اس کے خلاف اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں احتجاج ریکارڈ کرائیں گی۔IRA-2012 میں مجوزہ ترمیم سے ملک بھر کے محنت کشوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد اس طرح کی قانونی سازی وفاق کی ذمہ داری نہیں ہے اور یہ صوبائی مسئلہ ہے، لہٰذا حکومت اس طرح کی قانون سازی سے باز رہے اور بین الاقوامی قوتوں کی ایماء پر محنت کشوں کے ساتھ ظلم وزیادتی بند کی جائے اور محنت کشوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنرل سیکرٹری لیبر فیڈریشن فیڈریشن کے کیا گیا
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند