مقبوضہ کشمیر، بی جے پی حکومت نے شہید کے بیٹے کو سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق برطرف کیے گئے ملازم محمد ارشد گورو آنچار سرینگر سے تعلق رکھنے والے شہید آزادی پسند لیڈر غلام رسول گورو کے بیٹے ہیں اور وہ محکمہ سماجی بہبود میں ملازمت کرتے تھے۔ اسلام تائمز۔ کشمیریوں کو ان کی ملازمتوں اور جائیدادوں سے محروم کرنے کے مودی حکومت کے ایجنڈے کے تحت قابض انتظامیہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک کشمیری ملازم کو برطرف کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق برطرف کیے گئے ملازم محمد ارشد گورو آنچار سرینگر سے تعلق رکھنے والے شہید آزادی پسند لیڈر غلام رسول گورو کے بیٹے ہیں اور وہ محکمہ سماجی بہبود میں ملازمت کرتے تھے۔ انہیں نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت بی جے پی انتظامیہ نے ایک شہید رہنما کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کر دیا۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو معاشی طور پر محتاج بنانے کے لئے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اگست 2019ء سے سینکڑوں کشمیری ملازمین کو مختلف بہانوں سے معطل اور برطرفی کر دیا ہے۔ مقبوضہ علاقہ اگست2019ء میں خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے مسلسل سخت ف۔وجی محاصرے کی زد میں ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں ایک بیان میں کشمیری ملازم کی برطرفی کی مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو کشمیر دشمن اور آمرانہ اقدام قرار دیا۔ حریت کانفرنس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرے کیونکہ مقبوضہ علاقے میں حالات بدستور ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر دیا
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔