ایران میں مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے، ٹرمپ کی دوبارہ دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکہ اس پر ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے۔
مظاہرے اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور مہنگائی، اقتصادی بحران اور ایرانی ریال کی شدید گراوٹ کے باعث عوام سراپا احتجاج ہیں۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھتی ہے تو واشنگٹن شدید ردعمل دے گا۔
مزید پڑھیںایران میں مظاہرین پر تشدد ہوا تو امریکا کارروائی کرے گا، ٹرمپ کی دھمکی
ٹرمپ کی جانب سے کارروائی کی دھمکی پر ایران کا سخت ردعمل آگیا
ایران میں یہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران میں دکانداروں کی ہڑتال کے بعد شروع ہوئے، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 12 افراد بشمول سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے حجم اور شدت کے لحاظ سے گزشتہ کئی برسوں کے سب سے بڑے مظاہروں میں شامل ہیں، جو 2022-2023 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحریک سے بھی بڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔