امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے روسی تیل کے معاملے پر امریکا سے تعاون نہ کیا تو واشنگٹن نئی دہلی پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک خطاب کے دوران کہا کہ امریکا روسی تیل کے معاملے پر بھارت کے مؤقف اور اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے اس مسئلے پر تعاون نہ کیا تو تجارتی پابندیوں، خصوصاً ٹیرف میں اضافے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

مودی حکومت میں صحافیوں کی زندگی شدید دباؤ کا شکار، دی وائر نے بھانڈا پھوڑ دیا

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا، تاہم اس دعوے پر بھارتی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: روسی تیل

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی