روسی تیل کا معاملہ پھر گرم، ٹرمپ نے بھارت پر دوبارہ ٹیرف کی تلوار لٹکا دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے روسی تیل کے معاملے پر امریکا سے تعاون نہ کیا تو واشنگٹن نئی دہلی پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک خطاب کے دوران کہا کہ امریکا روسی تیل کے معاملے پر بھارت کے مؤقف اور اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے اس مسئلے پر تعاون نہ کیا تو تجارتی پابندیوں، خصوصاً ٹیرف میں اضافے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںمودی حکومت میں صحافیوں کی زندگی شدید دباؤ کا شکار، دی وائر نے بھانڈا پھوڑ دیا
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا، تاہم اس دعوے پر بھارتی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روسی تیل
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔