اسلام ٹائمز: امریکہ نے اپنی پرانی روایت پر چلتے ہوئے ایران پر حملے کی بجائے دفاعی طور ایک کمزور ملک "وینزویلا" پر ایک غیر متوقع حملہ کرکے اسکے صدر کو اسکے گھر سے اغوا کر لیا۔ امریکہ کے اس اقدام نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ تیاریوں کو دیکھتے ہوئے بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کا پاگل پن شاید اسے ایران پر کسی بڑے حملے کیلئے مجبور کر دے، لیکن اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ اسکے مقابلے میں زیر زمین ایک ایسا طوفان کروٹ لے رہا ہے، جو "طبس" کے صحرا سے اٹھنے والے طوفان سے کہیں زیادہ بڑا اور خطرناک ہوگا۔ ان تنصراللہ ینصرکم تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی
ہم بچپن سے سنتے آئے تھے کہ چودھویں صدی کے اختتام پر قیامت آئے گی۔ ہم جس قیامت کا انتظار کر رہے تھے، چودھویں صدی کے اخیر پر وہ قیامت تو نہیں آئی، البتہ افق عالم سے ایک ایسا انقلاب ضرور پھوٹا، جو امریکہ کے سر پر واقعی قیامت بن کر ٹوٹا۔ تب سے لے کر اب تک امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایران وبال جان بنا ہوا ہے۔ ان کی تمام پریشانیوں کا سبب اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت میں ہر روز بڑھتا ہوا اضافہ ہے۔ وہ ایران کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ایران گذشتہ نصف صدی سے جس طرح امریکہ کے لیے اس کی ذلت کا سامان کیے ہوئے ہے، امریکہ اپنی اولین اور دیرینہ خواہش کے باوجود افغانستان یا عراق کی طرز کا ایران پر حملہ نہیں کرسکا۔ وجہ یہ کہ اسے ہمیشہ ایران کے غیر متوقع جوابی ردعمل کا خوف رہا ہے۔
وہ ویت نام کے بعد اپنی سب سے بڑی جارحیت کا پہلا ہدف ایران کو بنانا چاہتا تھا، لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ "کمزوری جارحیت کو دعوت دیتی ہے۔" اس نے ایران کے خلاف کسی بڑے حملے سے پہلے مشق کے طور پر کمزور ممالک کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔ اس نے ہمیشہ دھمکیاں ایران کو دی ہیں اور حملہ کسی اور پر کیا ہے۔ اس نے ایک خاص ترتیب سے کمزور ممالک کی فہرست بنا رکھی ہے۔ اس لسٹ کے مطابق جو سب سے زیادہ کمزور ہے، وہ امریکہ کا سب سے پہلا نشانہ ہے۔ مثلاً امریکہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمزور ملک افغانستان تھا۔ اس نے ایران پر جارحیت سے قبل افغانستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا اور اسے تورا بورا بنا دیا۔
اس کے بعد اگلا نمبر عراق کا تھا۔ عراق کو اس نے ایک ہی کارروائی میں زیروزبر کر دیا۔ ان دو بڑی کامیاب جارحیتوں کے بعد اس نے چاہا کہ اب ایران پر حملہ کیا جائے، لیکن اس نے ایران کے خلاف کسی کارروائی سے پہلے ضروری سمجھا کہ حزب اللہ کو راستے سے ہٹایا جائے۔ چنانچہ اس نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لیے آمادہ کیا اور اس کی ہر طریقے سے مدد کی۔ ان دنوں اس وقت کی امریکہ کی سیکرٹری خارجہ "کنڈولیزا رائس" اپنے ہاتھوں میں امریکہ کا ترتیب دیا ہوا "مڈل ایسٹ" کا نیا نقشہ لیے علاقے میں گھوم رہی تھی۔ لیکن پھر ہوا یہ کہ اسرائیل اور حزب اللہ کی اس جنگ میں تمام دنیا کی توقع کے برخلاف حزب اللہ کامیاب رہی۔ حزب اللہ نے اس جنگ میں نہ صرف اسرائیل کو شکست دی بلکہ امریکہ کی ایران پر متوقع جارحیت بھی روک دی۔
اب گزرے سال ایران اور اسرائیل کے مابین 12 روزہ جنگ میں، جس طرح اسرائیل کی درگت بنی اور امریکہ کا "تھاڈ" جس طرح دنیا کے سامنے ناکارہ ثابت ہوا، اس نے اسرائیل کی دفاعی طاقت کو مذاق بنا کر رکھ دیا اور ایران کے میزائل تل ابیب کی فضاوں میں روشنی کی لکیریں بناتے ہوئے اپنے اہداف پر گرتے رہے۔ یہ منظرنامہ امریکہ کی قوتِ برداشت کے دائرے سے باہر تھا۔ چنانچہ اس نے ایک بار پھر اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے نئے سرے سے ایران پر کسی بڑے حملے کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک عرصے سے ایران کے خلاف دھمکوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔
لیکن اسی دوران کیا ہوا کہ امریکہ نے اپنی پرانی روایت پر چلتے ہوئے ایران پر حملے کی بجائے دفاعی طور ایک کمزور ملک "وینزویلا" پر ایک غیر متوقع حملہ کرکے اس کے صدر کو اس کے گھر سے اغوا کر لیا۔ امریکہ کے اس اقدام نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ تیاریوں کو دیکھتے ہوئے بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کا پاگل پن شاید اسے ایران پر کسی بڑے حملے کے لیے مجبور کر دے، لیکن اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ اس کے مقابلے میں زیر زمین ایک ایسا طوفان کروٹ لے رہا ہے، جو "طبس" کے صحرا سے اٹھنے والے طوفان سے کہیں زیادہ بڑا اور خطرناک ہوگا۔ ان تنصراللہ ینصرکم
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کسی بڑے حملے اور اسرائیل اسرائیل کی امریکہ کے ایران پر ایران کے حزب اللہ سے ایران لیکن اس اور اس نے ایک کر دیا کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔