Islam Times:
2026-07-24@05:31:03 GMT

جنگی سفارت کاری

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

جنگی سفارت کاری

اسلام ٹائمز: وینزویلا میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک ملکی یا علاقائی بحران نہیں ہے، بلکہ بین الاقوامی نظام، قومی خود مختاری کے تصور اور بڑی طاقت کی مداخلت کی حدود کا ایک بڑا امتحان ہے۔ ایک ایسا امتحان، جسکے نتائج لاطینی امریکہ سے آگے عالمی سیاست تک پھیل سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے اقدامات امریکہ کو "بیٹل شپ ڈپلومیسی" کے دور کیطرف لوٹ رہے ہیں، جب واشنگٹن نے وسائل اور مفادات پر قبضہ کرنے کیلئے فوجی طاقت کا استعمال کیا تھا۔ تحریر: مہدی النک

نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکہ "بیٹل شپ ڈپلومیسی" کے دور میں واپس آگیا ہے۔ اس اخبار کے تجزیے کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، ایک ایسی تبدیلی جو ملک کو 20 ویں صدی کے اوائل سے لے کر اب تک سب سے متنازعہ مداخلتی منصوبوں میں سے ایک کی طرف لے جا سکتی ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے کہ واشنگٹن غیر معینہ مدت کے لیے وینزویلا کا "انتظام" کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مؤثر طریقے سے ایک ایسے منصوبے کی نقاب کشائی کی ہے، جسے بہت سے مبصرین سامراج اور جبر کی سفارت کاری کے دور میں واپسی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ بیانات امریکی فوجی آپریشن اور نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں، ایک ایسی کارروائی، جس نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے ردعمل کو جنم دیا ہے۔

وینزویلا کی واشنگٹن کی سرپرستی
مارالاگو میں اپنی تقریر میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ مادورو کی نائب ڈیلسی روڈریگز عارضی طور پر اقتدار سنبھال سکتی ہے، لیکن یہ اختیار واشنگٹن کی طرف سے پیش کئے گئے مطالبات پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہوگا۔ ٹرمپ کے اس موقف نے مؤثر طریقے سے وینزویلا کی سیاسی آزادی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور غیر ملکی سرپرستی کے قیام کے شکوک کو مزید تقویت دی ہے۔ اس کے برعکس وینزویلا کی نائب صدر، ڈیلسی روڈریگز نے سخت لہجے میں امریکی کارروائی کو "جھوٹے بہانے کے تحت حملہ" قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ مادورو وینزویلا کے جائز صدر ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو "بربریت" قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے ردعمل کا مطالبہ کیا۔ روڈریگز کی جانب سے ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کرنے کے بعد بھی امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو نے کہا کہ وہ ابھی مستقبل کے بارے میں فیصلہ نہیں کر رہے۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا، "ہم آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ان کے رویئے اور اعمال کی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔"

ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر امریکہ کو وینزویلا کے اندر یا ملک کے حکام کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو فوجی کارروائیوں کی "دوسری لہر" شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم زمینی فوج بھیجنے سے نہیں ڈرتے۔ امریکہ وینزویلا کی سیاسی اور اقتصادی حکمرانی کے لیے فریم ورک کا تعین کرنا چاہتا ہے۔ امریکی انتظامیہ لفظ "قبضے" کے استعمال سے گریز کرتی ہے، لیکن ملک کے حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کسی ثالث یا سفارتی اداکار سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا وینزویلا کی سیاسی اور اقتصادی طرز حکمرانی کے لیے فریم ورک کا تعین کرے گا اور کسی بھی مزاحمت کی صورت میں فوجی آپشن میز پر موجود رہے گا۔

امریکہ وینزویلا کی تیل کی صنعت کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے
اس نقطہ نظر کا ایک اہم محور وینزویلا کی تیل کی صنعت ہے۔ ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کی پچھلی حکومتوں نے "امریکی اثاثے اور تیل کے پلیٹ فارمز" کو ضبط کر لیا تھا اور اب ان پر دوبارہ دعویٰ اور ان کو واپس لینے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی کمپنیاں ایک بار پھر تیل کی صنعت کا کنٹرول سنبھال لیں گی اور امریکی مفادات کو سب سے پہلے پیش کیا جائے گا۔ یہ نقطہ نظر کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا امریکہ کو تیل کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے طویل مدتی فوجی دستے تعینات کرنے کی ضرورت ہوگی۔؟ تیل کے وسائل کے انتظام اور اس کے محصولات کی تقسیم کا فیصلہ کون سا ادارہ کرے گا؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر وینزویلا کے عوام آزادانہ انتخابات میں واشنگٹن کی خواہش سے مختلف کسی امریکہ مخالف کو ووٹ دیتے ہیں تو امریکہ کا ردعمل کیا ہوگا۔؟

امریکہ کے ایک اور "نہ ختم ہونیوالی جنگ" میں شامل ہونے کا امکان
ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کا راستہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو ایک اور "نہ ختم ہونے والی جنگ" میں گھسیٹ سکتا ہے، ایک ایسا منظر، جس کے خلاف ٹرمپ کو  بار بار خبردار کیا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے ان خدشات کو  محدود، لیکن اعلیٰ سطحی ماضی کی کارروائیوں جیسے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل یا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر اس موازنے میں خامی یہ ہے کہ کسی ملک کو چلانا اور محدود فوجی حملے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ وینزویلا، عراق سے دوگنا بڑا اور پیچیدہ سماجی، اقتصادی اور فوجی ڈھانچہ والا ملک ہے۔ امریکی مداخلتوں سے  زیادہ مشکل چیلنجز کا باعث بن سکتا ہے۔

وینزویلا کے ایک محقق جان پولگا ہاسیمووچ کے مطابق، ملک کی مسلح افواج کا ردعمل فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ اگر فوج تقسیم ہوتی ہے تو اندرونی تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ متحد رہتی ہے تو اس سے مستقبل کی کسی بھی حکومت کو قانونی حیثیت دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ مختصراً، وینزویلا میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک ملکی یا علاقائی بحران نہیں ہے، بلکہ بین الاقوامی نظام، قومی خود مختاری کے تصور اور بڑی طاقت کی مداخلت کی حدود کا ایک بڑا امتحان ہے۔ ایک ایسا امتحان، جس کے نتائج لاطینی امریکہ سے آگے عالمی سیاست تک پھیل سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے اقدامات امریکہ کو "بیٹل شپ ڈپلومیسی" کے دور کی طرف لوٹ رہے ہیں، جب واشنگٹن نے وسائل اور مفادات پر قبضہ کرنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وینزویلا کے وینزویلا کی امریکہ کو انہوں نے ٹرمپ کے کی طرف تیل کی کے لیے کے دور کیا ہے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل