ایلون مسک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ایلون مسک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز
نیویارک (سب نیوز)اسٹار لنک اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی وینزویلا میں محدود مدت کے لیے مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرے گی۔اسٹارلنک، جو اسپیس ایکس کی ملکیت ہے، وینزویلا کے لوگوں کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ مفت فراہم کرے گا تاکہ وہ مسلسل رابطے میں رہ سکیں۔
یہ مفت سروس 3 فروری 2026 تک دستیاب رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایلون مسک نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک مختصر پیغام بھی شیئر کیا جس میں انہوں نے وینزویلا کے عوام کے ساتھ حمایت میں۔اس اقدام کو سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں لیا جا رہا ہے، کیونکہ وینزویلا میں حالیہ دنوں میں حالات غیر مستحکم رہے ہیں۔یہ اقدام اسٹارلنک کے سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے براڈ بینڈ انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وینزویلا میں انٹرنیٹ کی سہولت موجودہ حالات کے باوجود برقرار رہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر غور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر غور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قومی مذاکراتی کمیٹی کی قومی کانفرنس میں شرکت سے انکار بھکر میں یومِ ولادتِ باسعادت حضرت علیؓ کے موقع پر جشنِ مولودِ کعبہ و محفلِ سماع کا انعقاد مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے، مضبوط پاک فوج ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے: رانا منان خان قومی معیشت پر اثر انداز ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلے ترجیح ہوں گے: چیف جسٹس امریکی فوجی وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وینزویلا میں ایلون مسک
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے