پاکستانی شہری سے شادی کرنے والی نومسلم بھارتی خاتون کو آج بھارت ڈی پورٹ کرنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور:
نومسلم بھارتی خاتون نور حسین ( سابقہ نام سربجیت کور) کو آج پاکستان سے ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خاتون کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارت واپس بھیجا جائے گا، 48 سالہ سربجیت کور 4 نومبر 2025 کو بابا گورو نانک کا جنم دن منانے پاکستان آنے والے بھارتی یاتریوں کے ساتھ آئی تھیں۔
قیام کے دوران انہوں نے 5 نومبر 2025 کو اسلام قبول کیا اور مقامی شہری ناصر حسین سے نکاح کر لیا جس کے بعد ان کا نام نور حسین رکھا گیا۔ ان کے لاپتہ ہونے کا انکشاف 13 نومبر کو ہوا جب بھارتی یاتری واپس اپنے ملک پہنچے۔
بھارتی خاتون کے ویزے کی معیاد 14 نومبر 2025 کو ختم ہو چکی ہے۔ اس بنیاد پر امیگریشن قوانین کے تحت ان کی ڈی پورٹیشن کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ سردار مہیندرپال سنگھ کی جانب سے بھارتی خاتون کو ڈی پورٹ کیے جانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ تاہم عدالتی حکم سے قبل ہی خاتون کو ڈی پورٹ کیے جانے کا عمل شروع کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سربجیت کور اور ان کے شوہر ناصر حسین کو دو روز قبل ننکانہ صاحب کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس اور انٹیلی جنس حکام نے گاؤں پہرے والی میں کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو حراست میں لیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد بھارتی خاتون کو آج واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت کے حوالے کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی خاتون خاتون کو ڈی پورٹ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔