کراچی میں مائی کلاچی کے علاقے میں ماں اور 3 بچوں کو قتل کرکے لاشیں گٹر میں پھینکنے کے دلخراش واقعے میں گرفتار ملزم مسرور حسین کو جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، جبکہ آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی، مین ہول سے ملنے والی لاشوں پر تشدد کے واضح شواہد، پوسٹ مارٹم مکمل

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران ہی اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق مزید تحقیقات کے لیے ملزم کا جسمانی ریمانڈ ناگزیر تھا، جس پر عدالت نے پولیس کو اجازت دے دی۔

پولیس کے مطابق ملزم نے بیان دیا ہے کہ مقتول خاتون انیلہ تعویز کیا کرتی تھی، جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور اسی وجہ سے اس نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے خاتون اور اس کے 3 بچوں کو قتل کیا۔

مزید پڑھیں:کراچی: مائی کلاچی کے قریب مین ہول سے 4 لاشیں برآمد، تحقیقات جاری

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولین کی لاشیں مائی کلاچی روڈ کے قریب ایک خالی پلاٹ میں موجود ہول/گٹر سے برآمد ہوئی تھیں۔ خاتون اور بچے کھارادر کے رہائشی تھے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مائی کلاچی

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد