لکی مروت، سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو بارود سے اُڑا دیا گیا، ایک جاں بحق، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پولیس کے مطابق دھماکا گاؤں بیگوخیل سے لکی سیمنٹ فیکٹری جانے والی گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اسلام ٹائمز۔ سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو دہشت گردوں نے بارود سے اُڑا دیا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔ تفصیلات کے مطابق لکی مروت میں بیگوخیل سڑک پر ناورخیل موڑ کے قریب لکی سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکا ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا گاؤں بیگوخیل سے لکی سیمنٹ فیکٹری جانے والی گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں لکی سیمنٹ فیکٹری کا ایک ملازم جاں بحق جب کہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں لکی سیمنٹ فیکٹری کے 4 ملازمین بھی شامل ہیں جب کہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دھماکے کے بعد تمام زخمیوں کو فوری طور پر لکی سٹی اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر کفایت اللہ نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کے پیش نظر سٹی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس میں اکثریت عام پرائیویٹ افراد کی تھی۔ بس بیگوخیل سے لکی مروت اور پھر نجی سیمنٹ فیکٹری جا رہی تھی۔ ریسکیو 1122 لکی مروت کی امدادی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر پہنچیں اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔