لکی مروت، سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو بارود سے اُڑا دیا گیا، ایک جاں بحق، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پولیس کے مطابق دھماکا گاؤں بیگوخیل سے لکی سیمنٹ فیکٹری جانے والی گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اسلام ٹائمز۔ سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو دہشت گردوں نے بارود سے اُڑا دیا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔ تفصیلات کے مطابق لکی مروت میں بیگوخیل سڑک پر ناورخیل موڑ کے قریب لکی سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکا ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا گاؤں بیگوخیل سے لکی سیمنٹ فیکٹری جانے والی گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں لکی سیمنٹ فیکٹری کا ایک ملازم جاں بحق جب کہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں لکی سیمنٹ فیکٹری کے 4 ملازمین بھی شامل ہیں جب کہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دھماکے کے بعد تمام زخمیوں کو فوری طور پر لکی سٹی اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر کفایت اللہ نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کے پیش نظر سٹی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس میں اکثریت عام پرائیویٹ افراد کی تھی۔ بس بیگوخیل سے لکی مروت اور پھر نجی سیمنٹ فیکٹری جا رہی تھی۔ ریسکیو 1122 لکی مروت کی امدادی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر پہنچیں اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔