کراچی کو دہشت گردی کے بڑے واقعے سے بچایا ہے، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
فوٹو: اسکرین گریب
سیکیورٹی اداروں نے کراچی میں بڑی دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک نے کہا ہے کہ کراچی کو دہشت گردی کے بڑے واقعے سے بچایا ہے۔
کراچی میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک نے کہا کہ کراچی میں خطرناک دہشت گردی کے منصوبے کی بیرون ملک پلاننگ کی گئی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر نے کہا کہ واقعے میں ملوث 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے، دہشت گردوں کا تعلق کمانڈر بشیر بی ایل اے گروپ سے ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کراچی میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنادیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے رئیس گوٹھ میں بارودی مواد چھپایا تھا۔ ایک ٹرک، 30 سے زائد بڑے ڈرم اور 5 سلنڈر قبضے میں لیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی اظفر مہیسر نے کہا کہ ملزمان نے کراچی میں دہشت گردی کی بڑی واردات کی منصوبہ بندی کی تھی، مخلتف راستوں سے بارودی مواد یہاں لاکر جمع کیا جارہا تھا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید کہا کہ 2 ہزار کلو گرام سے زائد بارودی مواد برآمد ہوا جسے ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ دہشتگردوں کے پاس کمرشل بارودی مواد بھی موجود تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات سیکیورٹی اداروں نے کراچی میں بڑی دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے بلدیہ رئیس گوٹھ میں 4 ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد برآمد کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آئی جی سی ٹی ڈی منصوبہ ناکام دہشت گردی کا نے کراچی میں بارودی مواد ڈی آئی جی نے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔