قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اور بڑا کارنامہ؛ کراچی میں دہشت گردی کے خطرناک منصوبے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اور بڑا کارنامہ سامنے آگیا جب کہ
کراچی میں دہشت گردی کے خطرناک منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔
کئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی گئی
جب کہ پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی انتھک کاوش کے نتیجے میں مصدقہ اطلاعات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔
کارروائی میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد تباہ کن بارودی مواد برآمد کیا، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن ریٹائرڈ غلام اظفر مہیسر نے اہم پریس کانفرنس میں بتایا کہ کئی دن اور راتوں کی محنت کے بعد ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتار دہشت گرد سے تفتیش کے بعد ایک اور کامیابی ملی، گذشتہ رات دو مزید دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔
گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش، حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں، اداروں کی مسلسل نگرانی اور غیر معمولی چوکنا پن سے دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب ہوا۔
برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد کی برآمدگی سے بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں، دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا،
انٹیلی جنس اداروں نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے نگرانی کی، آپریشن کو مکمل خفیہ رکھا گیا،
عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاط برتی گئی، کارروائی کے دوران بوبی ٹریپس اور ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیے گئے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا۔
شواہد کے مطابق نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا، انڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے، بھارتی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں۔
دہشت گرد نیٹ ورک کے تانے بانے بشیر زیب، بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے جوڑنے کے شواہد ہیں، یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، دھماکا خیز مواد کی سپلائی چین توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔
مقامی سہولت کار معمولی مالی مفادات کے بدلے دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں، دہشت گرد رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی اور مؤثر جانچ ناگزیر ہے۔
یوریا اور دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال پر قوانین کے سخت نفاذ پر زور لازمی ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں
دہشت گرد منصوبے کے تمام ذمہ داروں کا پیچھا کیا جا رہا ہے، مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے بارودی مواد انٹیلی جنس کرنے والے خیز مواد کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔