پولیس عدالتی اجازت کے بغیر موبائل فون چیک نہیں کر سکتی، سیشن کورٹ لاہور کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور کی ضلعی عدالت نے شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور دور رس اثرات کا حامل فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے اختیارات پر واضح قانونی حد بندی عائد کر دی ہے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ایڈیشنل سیشن جج لاہور شفقت راجہ نے قرار دیا ہے کہ پولیس کسی بھی شہری کا موبائل فون، اس میں موجود ڈیٹا، پیغامات، تصاویر یا سوشل میڈیا مواد عدالت کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چیک نہیں کر سکتی۔
عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ شہریوں کی نجی زندگی کا تحفظ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت ایک ناقابلِ تنسیخ بنیادی حق ہے، جبکہ اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کا حق آئین کے آرٹیکل 19 کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور پولیس کا ’مشینی مخبر‘: اب مصنوعی ذہانت چور ڈکیت پکڑوائے گی!
عدالتی فیصلے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے ان آئینی حقوق کو پامال کرنے کے مجاز نہیں اور کسی بھی شہری کی ڈیجیٹل تلاشی صرف قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی ممکن ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج شفقت راجہ نے اپنے حکم میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عدالتی اجازت کے بغیر موبائل فون کی تلاشی غیر قانونی تصور ہوگی، اور ایسی کسی بھی کارروائی میں ملوث افسران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ شہریوں کو ہراساں کرنے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مزید پڑھیں:لاہور پولیس کی برق رفتار کارروائی، خاتون سے گاڑی چھیننے والے ملزمان گرفتار
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف شہریوں کے ڈیجیٹل پرائیویسی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ کوئی ادارہ یا فرد آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پولیس کی کارروائیوں میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔
عدالتی حلقوں میں اس فیصلے کو ڈیجیٹل دور میں شہری آزادیوں اور نجی زندگی کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس پیشگی اجازت ڈیجیٹل پرائیویسی سوشل میڈیا مواد سیشن کورٹ شفقت راجہ لاہور موبائل فون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس پیشگی اجازت ڈیجیٹل پرائیویسی سوشل میڈیا مواد سیشن کورٹ لاہور موبائل فون موبائل فون کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔